انوارالعلوم (جلد 19) — Page 100
انوار العلوم جلد ۱۹ 1++ سکھ قوم کے نام دردمندانہ اپیل صورتِ حالات پر سکھ خوش ہو سکتے ہیں؟ بات یہ ہے کہ اس بٹوارے سے ہندوؤں کو بے انتہا فائدہ پہنچا ہے مسلمانوں کو اخلاقی طور پر فتح حاصل ہے لیکن مادی طور پر نقصان، سکھوں کو مادی طور پر بھی اور اخلاقی طور پر بھی نقصان پہنچا ہے گویا سب سے زیادہ گھاٹا سکھوں کو ہوا ہے اور اس سے کم مسلمانوں کو۔ہندوؤں کو کسی قسم کا بھی کوئی نقصان نہیں ہوا صرف اس غنیمت میں کمی آئی ہے جو وہ حاصل کرنا چاہتے تھے لیکن ابھی وقت ہے کہ ہم اس صورت حالات میں تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش کریں ۲۳ / مارچ کے بعد پھر یہ سوال آسانی سے حل نہ ہو سکے گا۔سکھ صاحبان جانتے ہیں کہ احمد یہ جماعت کو کوئی سیاسی اور مادی فائدہ اس یا اُس سکیم سے حاصل نہیں ہوتا۔احمد یہ جماعت کو ہر طرف سے خطرات نظر آ رہے ہیں ایک پہلو سے ایک خطرہ ہے تو دوسرے پہلو سے دوسرا۔پس میں جو کچھ کہہ رہا ہوں عام سیاسی نظریہ اور سکھوں کی خیر خواہی کے لئے کہہ رہا ہوں۔میں جس علاقہ میں رہتا ہوں گو اس میں مسلمانوں کی اکثریت ہے لیکن سکھ اس علاقے میں کافی ہیں اور ہمارے ہمسائے ہیں اور ان کی نسبت آبادی کوئی ۳۳ فیصدی تک ہے اس لئے سکھوں سے ہمارے تعلقات بہت ہیں بعض سکھ رؤساء سے ہمارا خاندانی طور پر مہاراجہ رنجیت سنگھ کے زمانہ سے بھائی چارہ اب تک چلا آتا ہے اس لئے میری رائے محض خیر خواہی کی بناء پر ہے میرا دل نہیں چاہتا کہ سکھ صاحبان اس طرح کٹ کر رہ جائیں۔اگر تو کوئی خاص فائدہ سکھوں کو پہنچتا تو میں اس تجویز کو معقول سمجھتا مگر اب تو صرف اس قد ر فرق پڑا ہے کہ سارے پنجاب میں مسلمان تعداد میں اول تھے ، ہند و دوم اور سکھ سوم اور اب مشرقی پنجاب میں ہندو اول مسلمان دوم اور سکھ سوم ہیں۔سکھ اگر اس بٹوارے سے دوم ہو جاتے تو کچھ معقول بات بھی تھی مگر صرف مسلمان اول سے دوم ہو گئے ہیں اور ہند و دوم سے اوّل ،سکھوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔پرانے پنجاب میں مسلمانوں نے اپنے حق سے ساڑھے پانچ فیصدی سکھوں کو دیدیا تھا اب تک ہندوؤں کی طرف سے کوئی اعلان نہیں ہوا کہ وہ کتنا حصہ اپنے حصہ میں سے سکھوں کو دینے کو تیار ہیں۔پرانے پنجاب میں چودہ فیصدی سکھوں کو اکیس فیصدی حصہ ملا ہوا تھا اب اٹھارہ فیصدی سکھ مشرقی پنجاب میں ہو گئے ہیں اگر ہندو جو تعداد میں اول نمبر پر ہیں مسلمانوں کی طرح اپنے حق سے سکھوں کو دیں تو سکھوں کو نئے صوبہ میں چھیں