انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 99

انوار العلوم جلد ۱۹ ۹۹ سکھ قوم کے نام دردمندانہ اپیل اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ سکھ قوم کے نام دردمندانہ اپیل پنجاب کے بٹوارے کا برطانوی فیصلہ ہو چکا ہے اب خود اہل پنجاب نے اس کے متعلق اپنی آخری منظوری دینی ہے یا اس سے انکار کرنا ہے پیشتر اس کے کہ اس کے متعلق کوئی قدم اُٹھایا جائے مناسب ہے کہ ہم اس کے متعلق پوری طرح سوچ لیں۔ایک دفعہ نہیں دس دفعہ کیونکہ تقسیم کا معاملہ معمولی نہیں بہت اہم ہے۔اس وقت تک جو تقسیم کا اعلان ہوا ہے اس کا حسب ذیل نتیجہ نکلا ہے۔ہندو ( انگریزی علاقہ کے )۲۱ کروڑ میں سے ساڑھے انیس کروڑ ایک مرکز میں جمع ہو گئے ہیں اور صرف ڈیڑھ کروڑ مشرقی اور مغربی اسلامی علاقوں میں گئے ہیں گویا اپنی قوم سے جُدا ہونے والے ہندوؤں کی تعداد صرف سات فیصد ہے باقی ترانوے فیصدی ہندو ایک جھنڈے تلے جمع ہو گئے ہیں۔مسلمان ( انگریزی علاقہ کے ) آٹھ کروڑ میں سے پانچ کروڑ دو اسلامی مرکزوں میں جمع ہو گئے ہیں اور تین کروڑ ہندو اکثریت کے علاقوں میں چلے گئے ہیں گویا اپنی قوم سے جُدا ہونے والے مسلمان ۳۷ فیصدی ہیں۔سکھ (انگریزی علاقہ میں رہنے والے ) ۲۱ لاکھ مشرقی پنجاب میں چلے گئے ہیں اور ے الا کھ مغربی پنجاب میں رہ گئے ہیں گویا ۴۵ فیصدی سکھ مغربی پنجاب میں چلے گئے ہیں اور ۵۵ فیصدی مشرقی پنجاب میں اور تینوں قوموں کی موجودہ حالت یہ ہوگئی ہے۔ہندو ننانوے فیصدی اپنے مرکز میں جمع ہو گئے ہیں، مسلمان چونسٹھ فیصدی اپنے دو مرکزوں میں جمع ہو گئے ہیں ، سکھ پچپن فیصدی اور پینتالیس فیصدی ایسے دو مرکزوں میں جمع ہو گئے ہیں جہاں انہیں اکثریت کا حاصل ہونا تو الگ رہا ۲۵ فیصدی تعداد بھی انہیں حاصل نہیں۔کیا اس