انوارالعلوم (جلد 19) — Page 73
انوار العلوم جلد ۱۹ ۷۳ قومی ترقی کے دوا ہم اصول جب میں عشاء کی نماز کے بعد بیت الدعا میں سنتیں پڑھنے کے لئے گیا تو نہایت جوش اور رقت کے ساتھ میرے منہ سے بار بار یہ الفاظ نکلنے لگے کہ الہی ! ڈاکٹر مطلوب خاں زندہ ہو جائیں مگر پھر میرے دل میں خیال آتا کہ ہمارا تو یہ عقیدہ ہی نہیں کہ کوئی شخص ایک دفعہ مر کر دوبارہ زندہ ہو جائے مگر اس خیال کے آنے کے بعد بھی میرے منہ سے بے اختیار یہ دعا نکل جاتی کہ الہی ! ڈاکٹر مطلوب خاں صاحب زندہ ہو جائیں اور یہ دعا برابر میرے منہ سے نکلتی رہی۔رات کو جب میں سویا تو میں نے رویا میں دیکھا کہ ڈاکٹر مطلوب خاں صاحب مجھے ملے ہیں اور انہوں نے تین چار دن پہلے کی تاریخ بتا کر کہا کہ میں زندہ ہوں۔میں نے دوسرے دن کھانا کھاتے وقت یہ خواب میاں شریف احمد صاحب کو سنائی اور ساتھ ہی کہا یہ خواب ہے تو سچی کیونکہ میرا دل گواہی دیتا ہے کہ یہ خواب سچی ہے مگر میں واقعات کو کیا کروں مرے ہوئے آدمی تو زندہ نہیں ہو سکتے اور اس کی کوئی اور تعبیر سمجھ میں نہیں آتی۔میاں شریف احمد صاحب نے میری یہ خواب نذیر احمد صاحب کو سنائی وہ بھی اس پر حیران ہوئے لیکن دوسرے ہی دن نذیر احمد صاحب نے بتایا کہ ڈاکٹر مطلوب خاں صاحب کی تار آئی ہے کہ میں صحیح سلامت ہوں۔یہ سن کر سب حیران رہ گئے کہ گورنمنٹ تو اطلاع دے رہی ہے کہ مطلوب خاں فوت ہو چکا ہے اور خود مطلوب خاں صاحب تار دیتے ہیں کہ میں زندہ ہوں۔اصل بات یہ تھی کہ ڈاکٹر مطلوب خاں صاحب ایک لڑائی میں شامل ہوئے اور اسی حملہ میں ایک ڈاکٹر کی لاش ملی وہ ڈاکٹر تو سکھ تھا مگر اس کی داڑھی کی وجہ سے انہوں نے سمجھا کہ یہ ڈاکٹر مطلوب خاں کی لاش ہے اور چونکہ لاش کا چہرہ بالکل پہچاننے کے قابل نہ رہ گیا تھا اور پھر وہاں ڈاکٹر مطلوب خاں صاحب ہی معروف تھے اس لئے سمجھ لیا گیا کہ وہ مارے گئے ہیں اور گورنمنٹ نے ان کے مرنے کی خبر بھی دے دی۔درحقیقت مطلوب خاں صاحب کو دشمن قید کر کے لے گئے تھے اور جب اتحادیوں کے ہوائی جہازوں نے دشمن پر بمباری کی تو دشمن میں افرا تفری پھیل گئی اور یہ کسی طرح بھاگنے میں کامیاب ہو گئے۔پس دعا کے لئے درد دل کا ہونا ضروری ہے۔ایک دفعہ حضرت عبد اللہ بن عباس سے کسی نے پوچھا کہ آپ کے دل میں سب سے بڑھ کر کسی شخص کے لئے دعا کرنے کے لئے جوش پیدا ہوتا ہے انہوں نے فرمایا جو شخص میرے پاس