انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page ix of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page ix

انوار العلوم جلد ۱۹ دوبارہ مؤرخہ 27 مئی کو اسی مضمون کو وضاحت فرمائی۔تعارف کنند حضور نے اپنے اس محاکمہ میں عربوں کی خصوصیات کا پس منظر بیان فرمایا نیز اسلام کے ظہور کے بعد ان میں پیدا ہونے والے اخلاق فاضلہ اور ان کی قومی خوبیوں میں پیدا ہونے والے نکھار کی وضاحت فرمائی۔یہ مضمون ستمبر ۱۹۶۱ء کو روزنامہ الفضل ربوہ میں 4 قسطوں میں شائع ہوا ہے۔جسے اب پہلی دفعہ انوارالعلوم کی اس جلد میں کتابی صورت میں شائع کیا جا رہا ہے۔(۲) خوف اور امید کا درمیانی راستہ ۱۹۴۷ء میں جب ہندوستان کی آزادی و تقسیم کا معاملہ آخری مراحل میں داخل ہو رہا تھا تو اُس وقت مسلمانوں کے اندر حالات کی نزاکت کا جو احساس نظر آنا چاہیے تھا وہ محسوس نہیں ہو رہا تھا۔چنانچہ اس صورت حال کے پیش نظر حضرت مصلح موعود نے مؤرخہ ۲۹ رمئی ۱۹۴۷ء کو بعد نماز مغرب قادیان میں ایک لیکچر دیا۔جس میں مسلمانوں کی اس حالت پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ:۔قرآن کریم کے مطالعہ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ مومن خوف اور رجاء کے درمیان ہوتا ہے نہ تو اُس پر خوف ہی غالب آتا ہے اور نہ اُس پر امید غالب آتی ہے بلکہ یہ دونوں حالتیں اس کے اندر بیک وقت پائی جانی ضروری ہیں جہاں اس کے اندر خوف کا پایا جانا ضروری ہے وہاں اس کے اندر امید کا پایا جانا بھی ضروری ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ نہ تو وہ خوف کی حدود کو پار کر جائے اور نہ امید کی حدود سے تجاوز کر جائے اور یہی وہ اصل مقام ہے جو ایمان کی علامت ہے یا خوش بختی کی 66 علامت ہے۔“ حضور کے اس خطاب کا مرکزی نقطہ یہ تھا کہ خوف اور امید کا درمیانی راستہ اختیار کرنا چاہیے نیز کامیابی کے لئے اللہ تعالیٰ کے دونوں احکام تدبیر اور تقدیر پر عمل ضروری ہے۔لہذا ان حالات میں کہ جہاں مسلمانوں کو کامیابی کی امید نظر آ رہی ہے وہاں خوف کا پہلو بھی پیش نظر رہنا