انوارالعلوم (جلد 19) — Page viii
انوار العلوم جلد ۱۹ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ تعارف کتب تعارف کنند یہ انوار العلوم کی اُنیسویں جلد ہے جو سید نا حضرت فضل عمر خلیفہ المسیح الثانی کی ۲۷ رمئی ۱۹۴۷ ء تا ۴ / جولائی ۱۹۴۸ء کی ۱۸ مختلف تحریرات و تقاریر پر مشتمل ہے۔ہے۔(۱) زمانہ جاہلیت میں اہلِ عرب کی خوبیاں اور اُن کا پس منظر مکرم سید منیر الحصنی شامی صاحب نے مؤرخہ ۲۱ مئی ۱۹۴۷ء کو بعد نماز مغرب قادیان میں زمانہ جاہلیت میں اہلِ عرب کے مناقب کے موقع پر عربی زبان میں ایک تقریر کی۔مگر وقت کی کمی کے باعث تقریر کے بعد حاضرین کو مذکورہ تقریر کے بارہ میں سوالات دریافت کرنے کا موقع نہ مل سکا۔چنانچہ دو تین روز بعد مؤرخہ ۲۶ رمئی کو بعد نماز مغرب دوبارہ مجلس منعقد ہوئی تو حضرت مصلح موعود نے حاضرین کو السید منیر الحصنی شامی صاحب سے ان کے لیکچر کے متعلق سوالات پوچھنے کا موقع عطا فرمایا جس پر کچھ احباب نے مکرم منیر الحصنی صاحب سے بعض سوالات دریافت کئے اور الحصنی صاحب نے ان کے سوالات کے جوابات دیئے۔سوال و جواب کے اختتام پر حضرت مصلح موعود نے فرمایا کہ چونکہ بعض حاضرین عربی زبان سے ناواقف ہیں لہذا میں اس گفتگو کا اُردو میں مفہوم بیان کر دیتا ہوں۔چنانچہ حضور نے سوال و جواب کا مفہوم بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ دراصل نہ سوال کرنے والے مقرر کی بات کو پوری طرح سمجھ سکے ہیں اور نہ ہی مقر ر صاحب سوالات کو پوری طرح سمجھ سکا ہے۔لہذا دونوں کو ہی غلط فہمی ہوئی ہے۔اس کے بعد حضور نے اصل حقیقت حال پر روشنی ڈالی۔نیز اگلے روز