انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 54 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 54

انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۴ مصائب کے نیچے برکتوں کے خزانے مخفی ہوتے ہیں۔چالیس پچاس سال پہلے دہلی کا کوئی آدمی ملنے پر اُس کو مرزا صاحب کہا جاتا تھا اور لکھنؤ کے کسی شخص کے متعلق صرف یہ معلوم ہونے پر کہ یہ صاحب لکھنو کے رہنے والے ہیں انہیں میر صاحب کہا جاتا تھا۔ایک لطیفہ مشہور ہے کہ دو شخص کسی سٹیشن پر گاڑی کے انتظار میں کھڑے تھے ان میں سے ایک دلی کا تھا اور دوسرا لکھنو کا۔گاڑی کے آنے میں کچھ دیر تھی ان دونوں نے رسمی علیک سلیک کے بعد جب ایک دوسرے کے متعلق یہ معلوم کیا کہ آپ دہلی کے ہیں اور آپ لکھنؤ کے ہیں تو ان دونوں نے یہ کوشش شروع کر دی کہ اخلاق دکھانے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جائیں اور دونوں نے چاہا کہ ایک دوسرے پر اپنے اخلاق کا اثر ڈالیں چنانچہ انہوں نے اپنے اپنے مخصوص طریق پر ایک دوسرے سے گفتگو شروع کر دی اور بات بات پر قبلہ میر صاحب اور قبلہ مرزا صاحب کہا جانے لگا۔ایک کہتا قبلہ میر صاحب فلاں بات یوں ہوئی اور دوسرا جھک کر کہتا قبلہ مرزا صاحب فلاں بات یوں ہے۔غرض دونوں نے اپنے اخلاق دکھانے کی کوشش میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔تھوڑی دیر کے بعد گاڑی پلیٹ فارم پر آ کر کھڑی ہو گئی تو لکھنؤ والے نے کہا قبلہ مرزا صاحب پہلے آپ چڑھئے۔دتی والے نے کہا قبلہ میر صاحب! پہلے آپ لکھنو والے نے پھر کہا قبلہ ! بھلا میں یہ گستاخی کر سکتا ہوں پہلے آپ ہی کو چڑھنا ہوگا آپ مجھے کیوں کانٹوں میں سیٹتے ہیں۔چنانچہ وہ کافی دیر تک اسی طرح کرتے رہے۔لکھنؤ والا فرشی سلام کرتا اور کہتا قبلہ مرزا صاحب پہلے آپ ہی چڑھیں گے اور دلی والا نہایت آداب بجالا کر کہتا قبلہ میر صاحب پہلے آپ۔وہ اسی طرح کر رہے تھے کہ گاڑی نے سیٹی دی یہ دیکھ کو وہ دونوں ایک ڈبے کی طرف لپکے اور ڈنڈے پکڑ کر بمشکل دروازے میں پہنچے اب صورت یہ تھی کہ دروازہ چھوٹا تھا اور وہ دونوں دروازے کے اندر پھنس گئے نہ وہ اندر جا سکتا تھا اور نہ یہ۔انہوں نے ایک دوسرے کو دھکے دینے شروع کئے اور آخر نوبت یہاں تک پہنچی کہ وہ سخت کلامی پر اتر آئے اور ایک کہتا خبیث ! اندر جاؤ یا مجھے گذر نے دو۔دوسرا کہتا مجھے اندر جانے دو اور پھر کمینے اور پاجی کے الفاظ شروع ہو گئے۔پس جب انسان پر مصیبت آتی ہے اور تھوڑی بہت تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اخلاق فاضلہ کو یکسر بھول جاتا ہے۔اب کہاں وہ حالت کہ قبلہ میر صاحب اور قبلہ مرزا صاحب کہ القاب جھک جھک کر ادا ہو رہے تھے اور کہاں یہ حالت کہ خبیث ، کمینے اور پاجی کے الفاظ پر اتر آئے۔پس