انوارالعلوم (جلد 19) — Page 563
انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۶۳ آخر ہم کیا چاہتے ہیں؟ چاہتے ہیں کہ لوگ اس بات کا کبھی خیال نہ کریں کہ اسلام سب سے پہلے ہمارے دل میں مرا تھا۔ہم چاہتے ہیں کہ دنیا اس بات کو تسلیم کر لے کہ سارے پاکستان کے باشندے اسلام کی حکومت چاہتے ہیں اور چونکہ سب باشندے اسلام کی حکومت چاہتے ہیں سوائے ان کے جن کو لوگوں نے حکومت میں اپنا نمائندہ چنا ہے اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ وہ آئین اسلام کے دشمن نمائندے جن کو آئین اسلام کے فدائی مسلمانوں نے اپنا نمائندہ بنایا تھا وہ ایک قانون بنا دیں جس سے جبری طور پر سب لوگوں سے اسلامی آئین پر عمل کرایا جائے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جب ہم چاہتے ہیں کہ اسلامی آئین جاری ہو تو ہم خود بھی اس کو جاری کر سکتے ہیں لیکن آئین اسلام کو اپنی مرضی سے جاری کرنا کوئی ایسا مزا نہیں دے گا۔ہم یہ چاہتے ہیں کہ اسلامی آئین تلوار کے زور سے ہم سے منوایا جائے اسی میں اُستادی کا مظاہرہ ہے اور اسی میں سب مزا ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ کشمیر پاکستان سے ملحق ہو کیونکہ اس میں پاکستان کی حفاظت ہے اور اس کے بغیر پاکستان محفوظ نہیں رہ سکتا لیکن ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ اگر کشمیر فتح کرنا پڑے تو یا سرحد کے پٹھان یہ کام کریں یا صرف کشمیر کے باشندے۔ہم چاہتے ہیں کہ اس کام پر ہم کو روپیہ بھی خرچ نہ کرنا پڑے۔اگر ڈوگرہ راج کے ظلم سے مسلمانوں کو اپنے وطن چھوڑ نے پڑیں تو ہم دل سے متمنی ہیں کہ ہمارے بھائیوں کو ہر طرح کا آرام ملے مگر ہم یہ نہیں چاہتے کہ اُن کو مہاجر قرار دیا جا کر ان کی امداد کی جائے کیونکہ اس طرح مشرقی پنجاب کے مہاجرین اور مغربی پنجاب کے مستفیدین کو نقصان پہنچتا ہے۔مگر ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ یہ کشمیر کے مہاجر دھکے کھانے ، بھو کے رہنے، تکلیفیں اُٹھانے کے بعد جب اپنے وطن کو واپس لوٹیں تو پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے اور ہماری عنایتوں کے گن گاتے جائیں اور آراء شماری کے وقت سو فیصدی پاکستان کے حق میں ووٹ دیں۔ہم چاہتے ہیں کہ فلسطین سے یہودی بھاگ جائیں ، عربوں کو فتح ہو مگر ہم عربوں کی کمزوری اور یہود کی طاقت پر غور کرنے کو ضیاع وقت سمجھتے ہیں جو مسلمان اس قسم کا خیال کرے وہ کافر ہے۔ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ نتیجہ خواہ کچھ نکلے آخر تک ہم کو کچھ نہ کرنا پڑے اور جنت حمقاء میں بیٹھے ہم فتح و کامرانی کے خواب دیکھتے رہیں اور شاباش و مرحبا کے تحائف سے عربوں کو قوی