انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 523 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 523

انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۲۳ سیر روحانی (۴) اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جب تو نے اپنی کمان سے تیر چھوڑا تو ہم سچ کہتے ہیں کہ وہ تیر تیری کمان نے نہیں چھوڑا بلکہ وہ تیر ہماری کمان نے چھوڑا مَارَمَيْتَ تُو نے تیر نہیں چلا یا اذُ رَمَيْتَ جب تُو نے تیر چلایا وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمی بلکہ وہ تیر خدا تعالیٰ نے چلایا گویا اگر ہم غور کریں تو نقشہ یوں بن گیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد خدا تعالیٰ نے اپنی کمان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپر د کر دی اور فرمایا اب جو بھی تیرے سامنے آئے گا اس پر زمینی تیر ہی نہیں چلے گا بلکہ آسمانی تیر بھی چلے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ اور بے لوث حیات عملی طور پر بھی دیکھ لو رسول کریم صلی اللہ وسلم کی تیس سالہ زندگی میں آپ کے ایک دو نہیں بلکہ لاکھوں دشمن تھے حکومتیں آپ کے خلاف تھیں ، عرب کے آزاد قبائل آپ سے برسر پیکار تھے، قیصر و کسری کی حکومتیں بھی آپ سے نبرد آزما تھیں یہودی الگ فتنہ برپاکئے ہوئے تھے اور منافقین، اسلام کو مٹانے کے لئے علیحدہ سازش میں مصروف تھے مگر اتنی شدید مخالفتوں کے باوجود ایک مثال بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ایسی نہیں ملتی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایسے شخص پر تیر چلایا ہو جس پر خدا تعالیٰ نے تیر نہ چلایا ہو۔اسی طرح آپ کی زندگی کا گہرا مطالعہ اس حقیقت کو روشن کرتا ہے کہ آپ نے کبھی کسی ایسے شخص پر تیر نہیں چلایا جو مُجرم نہ ہو۔حکومتیں کئی بے قصوروں کو مارڈالتی ہیں ، کئی ایسے لوگوں کو بھی ان کے ہاتھوں نقصان پہنچ جاتا ہے جو بے گناہ ہوتے ہیں مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی جو ایک کھلی کتاب کے طور پر تھی اس میں کوئی ایک مثال بھی ایسی نظر نہیں آتی کہ آپ کا تیر ایسے طور پر چلا ہو کہ کوئی بے گناہ اس کا شکار ہوا ہو۔صحابہ کرام سے بعض دفعہ ایسی غلطیاں ہوئی ہیں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی اس کا علم ہو آپ نے ان پر شدید ناراضگی کا اظہار فرمایا۔حضرت اسامہ پر ناراضگی حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ آپ کو نہایت عزیز تھے ان کے باپ کو آپ نے اپنا بیٹا بنایا ہوا تھا ایک غزوہ میں حضرت اسامہ شریک تھے کہ ایک مخالف کے تعاقب میں انہوں نے اپنا گھوڑا ڈال دیا جب اُس نے دیکھا کہ