انوارالعلوم (جلد 19) — Page 439
انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۳۹ قیام پاکستان اور ہماری ذمہ داریاں کی زندگی ہوتی ہے اور یقین رکھیں کہ ہماری زندگی کا اصل دور اُس وقت شروع ہو گا جب ہم مر جائیں گے۔جیسے سکول میں تعلیم حاصل کرنے والے لڑکے کے متعلق یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس کی اصل زندگی اس وقت شروع ہو گی جب وہ تعلیم سے فارغ ہو جائے گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اور کون انسان خدا تعالیٰ کا مقرب ہو سکتا ہے اور آپ کے سوا اور کون ہے جس نے اپنے عمل سے یہ ثابت کر دیا ہو کہ وہ خدا کے لئے اپنی ہر چیز اور اپنے ہر جذ بہ کو قربان کرنے کیلئے تیار ہے۔مگر باوجود اس کے ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اس دن کے لئے اتنی تیاری کرتے تھے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسی حالت میں جب کہ آپ بوڑھے ہو چکے تھے اور ساٹھ سال سے زیادہ عمر تھی رات کو نماز کے لئے اُٹھتے تو اتنی اتنی دیر اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑے رہتے کہ آپ کے پاؤں سوج جاتے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ مجھے یہ دیکھ کر رحم آتا۔آخر ایک دن تنگ آکر میں نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! آپ اپنی جان کو اتنا دکھ میں کیوں ڈالتے ہیں۔آپ نماز میں کھڑے ہوتے اور عبادت کرتے ہیں تو اتنی اتنی دیر کھڑے رہتے ہیں کہ آپ کے پاؤں سُوج جاتے ہیں اور آپ پر ضعف طاری ہو جاتا ہے۔کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے گنا ہوں کو معاف نہیں کر دیا ؟ اور کیا خدا تعالیٰ نے آپ کو الہام کے ذریعہ نہیں کہہ دیا کہ میں تجھ پر راضی ہوں؟ حضرت عائشہ فرماتی ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جواب میں کہا، عائشہ! ٹھیک ہے خدا نے مجھ پر بڑے بڑے فضل نازل کئے ہیں۔یہ بھی ٹھیک ہے کہ خدا نے میرے تمام قسم کے کاموں میں برکتیں رکھی ہیں۔مگر اے عائشہ ! جب خدا نے مجھ پر اتنا بڑا افضل نازل کیا ہے تو کیا میرا فرض نہیں کہ میں شکر گزار بندہ بنوں۔عربی کے الفاظ یہ ہیں۔الا اكُونَ عَبْدًا شَكُوراً سے اے عائشہ! کیا خدا کا ہی کام ہے کہ وہ حسن بنے بندے کا کام نہیں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرے؟ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسے انسان بھی باوجود ان تمام قربانیوں کے جو آپ نے کیں، باوجود جذبات محبت کی اس فراوانی کے جو آپ خدا تعالیٰ کے متعلق رکھتے تھے پھر بھی اس بات کے محتاج تھے کہ راتوں کو اُٹھ کر اللہ تعالیٰ کے حضور اتنی اتنی دیر کھڑے رہتے کہ آپ کے پاؤں سُوج جاتے ، دن کو عبادت کرتے اور اپنی زندگی کو زیادہ سے