انوارالعلوم (جلد 19) — Page 440
انوار العلوم جلد ۱۹ قیام پاکستان اور ہماری ذمہ داریاں زیادہ خدا تعالیٰ سے ملنے کے قابل بناتے تو اور کون انسان ہے جو اپنے آپ کو ان ذمہ داریوں سے مستغنی قرار دے سکے۔میں آپ خواتین سے ہی پوچھتا ہوں کہ کیا آپ اپنی زندگی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے مطابق بسر کر رہی ہیں؟ کیا آپ کہہ سکتی ہیں کہ آپ کی زندگی کے ایام زیادہ تر اُس اُخروی زندگی کی درستی کے لئے خرچ ہوتے ہیں جو حقیقی زندگی ہے؟ یا زیادہ تر ان کا موں کے لئے خرچ ہوتے ہیں جو دنیا کے کام ہیں؟ اسلام ان مذاہب میں سے نہیں جو رہبانیت سکھاتا ہو۔قرآن کریم میں صاف طور پر لکھا ہے کہ رہبانیت کا اسلام میں حکم نہیں بلکہ عیسائی اور ہندو جن میں رہبانیت کی تعلیم پائی جاتی ہے ان کے متعلق بھی کہتا ہے کہ ہم نے انہیں رہبانیت کا حکم نہیں دیا تھا ، انہوں نے اپنے طور پر اس کو شروع کر دیا کہ بہر حال اسلام ان مذاہب میں سے ہے جو کہتے ہیں کہ بے شک دنیا کے کام کرو۔اسلام اس بات سے نہیں روکتا کہ جن کو ضرورت ہو وہ نوکریاں کریں ، اسلام اس بات سے روکتا نہیں کہ جن کو ضرورت ہو وہ تو تجارتیں کریں، اسلام اس بات سے روکتا نہیں کہ جن کو ضرورت ہو وہ صنعت و حرفت کریں، اسلام اس بات کا بھی حکم نہیں دیتا کہ عورت گھر کے کام کاج نہ کرے مگر وہ یہ ضرور کہتا ہے کہ ہر چیز کو اُس کا درجہ دو۔جس طرح ایک عورت بچہ کی پرورش کے وقت اس سے مستغنی نہیں ہو جاتی کہ وہ اور کوئی کام کرے۔مثلاً اگر غریب ہے تو وہ کھانا تیار کرنے سے آزاد نہیں ہو جائے گی یا اگر آسودہ حال ہے تو وہ کھانا تیار کروانے سے آزاد نہیں ہو جائے گی یا بچے کی پرورش کی وجہ سے وہ ان ضرورتوں سے غافل نہیں ہو جائے گی جو اپنے رشتہ داروں سے میل جول اور اپنی سہیلیوں سے تعلقات رکھنے کے لحاظ سے اُس پر عائد ہوتی ہیں۔اسی طرح اسلام یہ نہیں کہتا کہ تم اپنی زندگیوں کو بالکل نمازوں میں لگا دو۔اسلام یہ نہیں کہتا کہ تم دنیا کی تمام ذمہ داریوں کو بھول جاؤ۔اسلام نہ صرف ان کاموں کی اجازت دیتا ہے بلکہ ان کی اہمیت پر زور دیتا ہے اور اتنا زور دیتا ہے کہ حضرت عائشہ نے ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! میرے پاس آج ایک غریب بدوی عورت آئی جس کے ساتھ اُس کی دو لڑکیاں تھیں۔وہ میرے پاس آکر بیٹھ گئی۔ایک لڑکی کو اُس نے اپنی دائیں طرف اور دوسری کو اپنی بائیں طرف بٹھا لیا اور مجھے کہا کہ کچھ کھانے کو ہے تو دو۔