انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 417 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 417

انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۱۷ دستور اسلامی یا اسلامی آئین اساسی اَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَىٰ رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ۔هُوَ النَّاصِرُ دستور اسلامی یا اسلامی آئین اساسی یہ سوال اس وقت بزور اُٹھ رہا ہے کہ پاکستان کا دستور اسلامی ہو یا قومی ؟ اس بحث میں حصہ لینے والوں کی باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ آئین عام اور آئین اساسی میں فرق نہیں سمجھتے۔آئین اساسی سے مراد وہ قانون ہوتے ہیں جن کی حد بندیوں کے اندر حکومت اپنا کام چلانے کی مجاز ہوتی ہے اور جن کو وہ خود بھی نہیں تو ڑسکتی۔بعض حکومتوں میں یہ آئین معین صورت میں اور لکھے ہوئے ہوتے ہیں اور بعض میں صرف سابق دستور کے مطابق کام چلایا جاتا ہے اور کوئی لکھا ہوا دستور موجود نہیں ہوتا۔یونائٹیڈ سٹیٹس امریکہ مثال ہے اُن حکومتوں کی جن کا دستور لکھا ہوا ہوتا ہے اور انگلستان مثال ہے اُن حکومتوں کی جن کا دستور لکھا ہوا نہیں اس کی بنیاد تعامل سابق پر ہے۔اسلام نام ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان پر نازل ہونے والی وحی پر ایمان لانے کا۔پس اسلامی آئین اساسی کے معنی یہی ہوں گے کہ کوئی ایسی بات نہ کی جائے جو قرآن کریم ، سنت اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے خلاف ہو۔قرآن کریم ایک غیر مشتہ دستور العمل ہے ، قول رسول بلحاظ سند کے ایک اختلافی حیثیت رکھتا ہے، بعض اقوالِ رسول متفقہ ہیں ، بعض مختلفہ۔جو متفقہ ہیں وہ بھی کلام اللہ اور سنت رسول اللہ کا درجہ رکھتے ہیں۔جن اقوال رسول کے متعلق مختلف فرق اسلام میں اختلاف ہے یا ایک ہی فرقہ کے مختلف علماء میں اختلاف ہے ان کا قبول کرنا یا نہ کرنا اجتہاد کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اس لئے وہ آئین اساسی نہیں کہلا سکتے۔اسی طرح قرآن کریم کی آیات میں سے وہ حصہ احکام کا جن کے معنوں میں