انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 20

انوار العلوم جلد ۱۹ زمانہ جاہلیت میں اہل عرب کی خوبیاں اور اُن کا پس منظر نے جا کر اُس مارنے والے کو قتل کر دیا اس پر طرفین کے قبیلے آگئے اور جنگ شروع ہوگئی اور تاریخوں میں آتا ہے کہ وہ جنگ تمہیں سال تک جاری رہی۔اب یہ بھی کوئی عقل کی بات تھی کہ کتیا کا بچہ اونٹنی کے پاؤں کے نیچے آ کر مر جانے سے تمہیں سال تک جنگ لڑی جاتی۔یہ پناہ دینے کا انتہائی جذبہ تھا جو ان لوگوں میں پایا جاتا تھا مگر دیکھنا تو یہ ہے کہ اس بات کا محرک کیا تھا۔اس بات کا محرک خدا تعالیٰ کی خوشنودی نہ تھی ، دین کی پیروی نہ تھی ، اگلے جہان کی بہبودی مد نظر نہ تھی ، کوئی نیکی کرنا مقصود نہ تھا اس کی محرک صرف قبائلی زندگی اور ان کا رسم ورواج تھا اور وہ صرف ایسے کاموں سے اپنی عزت بڑھانا چاہتے تھے اور یہ دکھانا مقصود تھا کہ ہم اتنے بہادر ہیں۔ہمیں ان کے اس رواج میں بعض خوبصورت کام بھی نظر آتے ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس سے ایک دفعہ فائدہ اُٹھایا تھا۔آپ جب سفر طائف سے واپس تشریف لائے تو چونکہ عرب دستور کے مطابق مکہ چھوڑ دینے کے بعد اب آپ مکہ کے باشندے نہیں تھے بلکہ اب مکہ والوں کا اختیار تھا کہ وہ آپ کو مکہ میں آنے دیں یا نہ آنے دیں اس لئے آپ نے مکہ کے ایک رئیس مطعم بن عدی کو کہلا بھیجا کہ میں مکہ میں داخل ہونا چاہتا ہوں کیا تم عرب دستور کے مطابق مجھے داخلہ کی اجازت دیتے ہو۔مطعم بن عدی اسلام کا سخت دشمن تھا لیکن ایسے حالات میں انکار کرنا بھی بہا در عربوں کی شان اور شرافت کے خلاف تھا اس لئے جب یہ پیغام اس کے پاس پہنچا اور پیغا مبر نے اسے کہا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پیغام تمہاری طرف بھیجا ہے تو وہ اُسی وقت اُٹھ کھڑا ہوا اور کہا جب محمد (ﷺ) نے کہا ہے تو میرا فرض ہے کہ میں اُن کو پناہ دوں یہ کہہ کر اس نے اپنے پانچوں بیٹوں کو بلایا اور کہا آج میری اور میرے خاندان کی عزت کا سوال ہے تم اپنی اپنی تلواریں نکال لو کیونکہ ہم نے محمد ( ﷺ ) کو اپنی پناہ میں لے کر شہر میں داخل کرنا ہے اور یا درکھو کہ تم خود ٹکڑے ٹکڑے ہو جاؤ مگر محمد(ﷺ) کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہونے پائے۔چنانچہ وہ خود اور اس کے پانچوں بیٹے تلوار میں تنگی کر کے گئے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی حفاظت میں مکہ میں داخل کیا اور آپ نے اسی حالت میں کعبہ کا طواف بھی کیا اس کے بعد وہ لوگ آپ کو گھر پہنچا کر واپس چلے گئے اور پھر آپ کی صلى الله