انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 332 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 332

انوار العلوم جلد ۱۹ ۳۳۲ الفضل کے اداریہ جات یقیناً ایسی طرف لے جائیں گی جہاں سے لوٹنا ہمارے لئے مشکل ہو جائے گا۔مشرقی اور مغربی پنجاب کی جبری مہاجرت ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جس کو سینکڑوں سال کی تاریخ کے اوراق بھی چھپا نہیں سکیں گے۔سینکڑوں سیاست دانوں کی تقریریں اس پر پردہ نہ ڈال سکیں گی۔اس پر پردہ صرف اسی طرح ڈالا جا سکتا ہے کہ اس ظلم کا ازالہ کیا جائے اور جولوگ جہاں سے آئے ہیں پھر انہیں و ہیں بسایا جائے مگر غلط تدبیروں سے نہ یہ کام ہو سکتا ہے اور نہ دونوں قوموں کے زخم مندمل ہو سکتے ہیں۔کہتے ہیں گاندھی جی اس مرض کے علاج کے لئے لاہور آ ئیں گے اور سب سے پہلے ماڈل ٹاؤن میں ہندوؤں اور سکھوں کو بسانے کی کوشش کریں گے اور یہ اُن کا حق ہے کیونکہ دتی کے مسلمانوں کو محفوظ کرنے کیلئے اُنہوں نے روزہ رکھا۔بات بظاہر نہایت خوبصورت ہے لیکن ادنی سا تھ بر بھی ہمیں اس کے ایک نقص کی طرف توجہ دلا سکتا ہے اور وہ یہ کہ جس آبادی کے تبادلہ کا فیصلہ باہم ہوا تھا وہ مشرقی اور مغربی پنجاب کے درمیان تھا۔دلی اس فیصلہ سے باہر تھی ہمارے نزدیک تو یہ فیصلہ بھی غلط تھا اس فیصلہ نے لاکھوں مسلمانوں کے قدم مشرقی پنجاب سے دُوراً کھاڑ دیئے اُن کو سوچنے کا کوئی موقع ہی نہیں دیا گیا۔اُنہیں کہا گیا کہ تمہاری حکومت تم کو اپنے ملک میں بلا رہی ہے اور اس سے مراد مشرقی پنجاب کے افراد پاکستان لیتے تھے حالانکہ مشرقی پنجاب کے مسلمانوں کی حکومت ہندوستان یونین تھی پاکستان نہیں۔جس طرح پاکستان یونین کے ہندوؤں اور سکھوں کی حکومت پاکستان گورنمنٹ تھی نہ کہ ہندوستان یونین۔بہر حال غلط معاہدہ تھا یا صحیح اس کے نتائج اچھے نکلے یا بُرے۔معاہدہ بہر حال یہی تھا کہ مشرقی پنجاب کے مسلمان اگر آنا چاہیں تو مغربی پنجاب اُن کو جگہ دے گا اور مغربی پنجاب کے ہندو اور سکھ اگر جانا چاہیں تو مشرقی پنجاب اُن کو جگہ دے گا۔سیاسی ہتھکنڈوں سے اگر چاہیں“ کے الفاظ کے معنی وہ ضرور ایسا کریں“ کے بنالئے گئے اور لاکھوں لاکھ آدمیوں کو اِ دھر سے اُدھر پھینک دیا گیا۔اب یہ تدبیر کی جارہی ہے کہ دلی میں مسلمانوں کو امن دیا جائے گا۔اس کے بدلہ میں لاہور میں اور ماڈل ٹاؤن میں ہندوؤں اور سکھوں کو بسایا جائے۔دتی کے مسلمانوں کو نکالنا معاہدہ کے خلاف تھا۔دتی کے مسلمانوں کا نکلنا بھی معاہدہ کے خلاف تھا، دتی کے مسلمانوں کے بدلہ میں لاہور یا ماڈل ٹاؤن کی آبادی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔