انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 328 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 328

انوار العلوم جلد ۱۹ ۳۲۸ الفضل کے اداریہ جات دوسری طرف ہیں یہ ایک قومی حق ہے جس پر ہندوستان یو نین کو بُرا منانے کی کوئی وجہ نہیں اور اس حق کا استعمال دوستی کے خلاف ہر گز نہیں۔انگلستان اور یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ دونوں دوست ہیں لیکن دونوں اپنی سرحدوں کی بھی حفاظت کر رہے ہیں اور فو جیں اور جنگی سامان بھی پوری طرح تیار کر رہے ہیں۔یہی حال عراق، شام، فلسطین اور مصر کا ہے۔پس ہر ملک کا اپنے دفاع کے لئے کوشش کرنا ایک طبعی حق ہوتا ہے اس پر بُرا منانا حماقت اور بے وقوفی ہوتی ہے۔اگر ہندوستان اپنی سرحدوں کی حفاظت کرے جن میں اس کی مغربی سرحد بھی شامل ہے جو پاکستان سے ملتی ہے تو یہ بھی اس کا طبعی حق ہوگا اور پاکستان کو اس کے خلاف کوئی شکایت پیدا نہیں ہونی | چاہئے ، اسی طرح جس طرح ہندوستان کو پاکستان کے خلاف کوئی شکایت نہیں پیدا ہونی چاہئے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ضروری نہیں کہ ہمیشہ حکومت کی عنان ۶ سے صلح کن لوگوں کے قبضہ میں رہے۔ہوسکتا ہے کہ جس طرح پچھلے دنوں میں ہندوستان یونین جتھوں کو فسادیوں اور لوٹ مار سے روک نہیں سکتی تھی اسی طرح آئندہ کوئی تحریک ایسی پیدا ہو جائے جس میں کچھ طاقتیں ہندوستان سے آزاد ہو کر پاکستان پر حملہ کر دیں۔اسی طرح ہو سکتا ہے کہ پاکستان میں کوئی ایسا گر وہ پیدا ہو جائے کہ وہ ہندوستان یونین پر حملہ کر دے۔پس اس احتمال کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر دونوں حکومتیں اپنی اپنی سرحدوں کو مضبوط کریں تو یہ نہ صرف جائز بلکہ ضروری احتیاط ہوگی اور اس پر ہرگز دونوں میں سے کسی فریق کو بھی ناراض نہیں ہونا چاہئے۔مگر اس کے ساتھ ساتھ ہی دونوں حکومتوں کو اس بارہ میں زیادہ سے زیادہ تعاون اور اتحاد کرنے کی کوشش کرنی چاہئے کہ ان کی سیاسی اور اقتصادی اور دفاعی جد و جہد ایک دوسرے کی تائید کیلئے ہو اور ایک دوسرے کی مدد کے ساتھ وہ ہندوستان اور ایشیا کے امن کو قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں جس کا سب سے زیادہ فائدہ یقیناً مسلمانوں اور ہندوؤں ہی کو پہنچے گا اس لئے کہ مسلمان مختلف ممالک کی آبادی کو ملا کر ایک بہت بڑی حیثیت ایشیا میں رکھتے ہیں اور ہندو ہندوستان کی آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک بہت بڑی تعداد پر مشتمل ہیں اور تیسرے نمبر پر چینیوں کو بھی فائدہ پہنچے گا کیونکہ وہ بھی بڑی بھاری تعداد میں ہیں۔ایشیا ایک لمبے عرصہ تک غلام رہ چکا ہے۔اب وقت آ گیا ہے کہ اس کی آزادی کیلئے کوشش کی جائے اور پاکستان اور ہندوستان کی آزادی کا اس کام