انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 309 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 309

انوار العلوم جلد ۱۹ ۳۰۹ الفضل کے اداریہ جات کے ترقی دینے میں امریکہ کے روپیہ کا خاص حصہ ہے اس لئے اگر کبھی عرب ممالک روس کی طرف مائل ہوئے تو یہودیوں کی یہ چھاؤنی امریکہ کی فوجوں کے لئے ایک کارآمد اڈہ ثابت ہوگی۔اس طرح دو متضاد چلنے والی نہریں قدرتی حالات کی مجبوری سے ایک ہی سمت بہنے لگیں۔روس جو کچھ ہی عرصہ پہلے عربوں کی تائید کر رہا تھا اس نے یہ محسوس کیا کہ فلسطین میں اس کے بھجوائے ہوئے یہودیوں کی کافی تعداد پہنچ چکی ہے اور کچھ نئے یہودی اس نے اپنے ملک سے بھجوانے کے لئے بھی تیار کر لئے جیسا کہ یو۔این۔اے میں مصری نمائندہ کی تقریر سے ظاہر ہوتا ہے کہ اوڈ یسا ۳۵ میں بہت سے یہودی نما یہودی فلسطین میں آنے کے لئے جمع ہو رہے ہیں ( یہودی نما یہودیوں سے مصری نمائندہ کا یہ منشاء ہے کہ ان میں سے بعض جھوٹے بنائے ہوئے یہودی ہیں اصلی یہودی نہیں) بہر حال روس نے چند مہینے پہلے تو یہودیوں کی اس لئے مخالفت کی تا کہ لوگوں کو یہ شبہ نہ ہو کہ روس فلسطین کے یہودیوں سے کچھ کام لینا چاہتا ہے اور اپنے ہم خیال لوگوں کو فلسطین میں داخل کر رہا ہے اور عرب لوگ اس دھوکا میں رہے کہ روس ان کی امداد کر رہا ہے۔جب اس نے یہ دیکھا کہ کافی تعداد ایسے یہودیوں کی فلسطین میں گھس گئی ہے جو روسی اثر کو غالب کر سکتے ہیں تو اس نے یکدم اپنی روش بدل لی اور عربوں کی بجائے یہودیوں کی تائید کرنی شروع کر دی۔ادھر امریکہ والے بھی یہ سمجھتے ہوئے کہ فلسطین تو انہی کے روپیہ سے ترقی کر رہا ہے اگر یہودی حکومت الگ بنی تو وہ یقیناً امریکہ ہی کی مدد کرے گی ، یہودیوں کی علیحدہ حکومت کے قیام کی تائید میں بڑھتے چلے گئے۔بظاہر دونوں حکومتیں ایک مقصد کی حمایت کر رہی ہیں لیکن دونوں حکومتیں اس لئے اس ایک مقصد کی حمایت کر رہی ہیں کہ روس سمجھتا ہے کہ اب میرا کافی اثر فلسطین پر ہو چکا ہے اور میں فلسطین سے اپنی مرضی کا کام لے سکتا ہوں اور امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ فلسطین کی تمام ترقی میری ہی امداد پر منحصر ہے اس لئے میں جس طرح چاہوں گا فلسطین کی یہودی آبادی سے کام لوں گا۔اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ دونوں میں سے کس کا اندازہ صحیح ہے۔بہر حال دونوں کا مقصد ایک ہے گو ایک دوسرے کے خلاف ہے۔دونوں ہی قوموں کا مقصد یہ ہے کہ فلسطین کو دوسری قوم سے جنگ کے وقت اپنے اڈہ کے طور پر استعمال کریں۔روس یہ خیال کرتا ہے کہ میری تدبیر کامیاب ہو چکی اور اب