انوارالعلوم (جلد 19) — Page 277
انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۷۷ الفضل کے اداریہ جات سیاسی لیڈروں نے اس حقیقت کو جانتے ہوئے اس کے متعلق کیا سوچا ہے اور عملاً کیا قدم اُٹھایا ہے۔ہم تو دیکھ رہے ہیں کہ بظاہر وہ بے تعلق تماشائیوں کی سی روش اختیار کئے ہوئے ہیں اور ان فرائض سے بالکل بے پروا ہیں جو دولت مشترکہ میں مرکزی حیثیت رکھنے کی وجہ سے ان پر عائد ہوتے ہیں۔دنیا کے سیاسی حلقوں میں برطانوی حکومت کی یہ بے حسی ضرور قابل پرسش سمجھی جائے گی اور اس کو اس بات کو واضح کرنے کیلئے ضرور توقع کی جائے گی کہ وہ اپنے فرائض کو جو بوجوہات بالا اس پر عائد ہوتے ہیں ادا کرنے کیلئے کیا کیا اقدامات لے رہی ہے۔بفرض محال اگر کینیڈا اور آسٹریلیا کے درمیان اس قسم کی کشمکش شروع ہو جائے جس قسم کی کشمکش اب ہندوستان اور پاکستان کے مابین ہو رہی ہے تو کیا حکومت برطانیہ اس قسم کی بے حسی کا مظاہرہ کرے گی جس قسم کی بے حسی وہ ان دونوں ڈومینینز کی صورت حال کے متعلق دکھا رہی ہے۔یقیناً اس کا رویہ موجودہ رویہ سے اس صورت میں بالکل مختلف ہوگا اور وہ کینیڈا اور آسٹریلیا کے با ہمی آویزش ۲۵ کے وقت ضرور حرکت میں آئے گی اور ضرور دونوں کے تعلقات کے مسائل کو سلجھانے کے لئے مؤثر طریقے اختیار کرے گی۔کیا یہ بات تعجب میں ڈالنے والی نہیں ہے کہ وہ پاکستان اور ہندوستان کی باہمی آویزش کے متعلق بے تعلق تماشائیوں کی سی حیثیت اختیار کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں کر رہی۔یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ یہ سوال معین صورت میں کسی ڈومین کی طرف سے اس کے سامنے پیش نہیں ہوا۔پاکستان حکومت نے پچھلے دنوں خاص طور پر ان معاملات کی طرف اس کی توجہ دلائی تھی اور دولت مشترکہ کے تمام ممبروں سے فرقہ وارانہ سوال کو حل کرنے کی استدعا کی تھی۔اُس وقت برطانوی حکومت کے لئے صریحاً ایک ایسا موقع پیدا ہو گیا تھا کہ اگر اس معاملہ میں اُس کی نیتیں درست ہوتیں تو وہ کوئی نہ کوئی عملی قدم اُٹھاتی اور اس خدا کی مخلوق کو کسی حد تک ان مصائب سے بچالیتی جن کا سلسلہ دن بدن بڑھتا ہی چلا جاتا ہے اور کسی طرح کم ہوتا نظر نہیں آتا حالانکہ اس کا فرض تھا کہ دولت مشترکہ کے ان دو ممبروں کے در میان توازن قائم کرنے کیلئے ہر ممکن کوشش کرتی۔ان وجوہات کے پیش نظر مسٹر ایٹلی کا بیان کم از کم پاکستان کے نقطہ نظر سے نہایت مایوس کن ہے کیونکہ تمام دنیا اب اس حقیقت کو جان چکی ہے کہ ہندوستانی حکومت کی جارحانہ