انوارالعلوم (جلد 19) — Page 276
انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۶ الفضل کے اداریہ جات بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مسٹر ایٹلی کا بیان مسٹرا بیٹلی انگلستان کے وزیر اعظم نے پاکستان اور ہندوستان کے متعلق حال میں جو بیان ایک مجلسی تقریب میں دیا ہے، اس میں کہا ہے کہ ہندوستانی لیڈروں کے باہمی فیصلہ کے مطابق ہندوستان تقسیم ہوا اور دو علیحدہ علیحدہ ڈومین وجود میں آئیں اب یہ ہمارے لئے سخت تکلیف کا باعث ہے کہ تقسیم کے بعد ایسے خطر ناک فرقہ وارانہ اختلافات نے سر اُٹھایا ہے جو شدید قسم کے جانی نقصان کا موجب ہورہے ہیں۔اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ وزیر اعظم مسٹر ایٹلی بھی ان واقعات کو جو تقسیم ہندوستان کے بعد یہاں رونما ہوئے ہیں اچھی طرح جانتے ہیں اگر چہ آپ نے اپنے بیان میں بڑی احتیاط سے کام لیتے ہوئے کسی واحد ڈومین کو ان ہولناک واقعات کا ذمہ دار ٹھہرانے سے گریز کیا ہے پھر بھی یہ ناممکن ہے کہ آپ کو اب تک صحیح صورت حال کی تفہیم نہ ہوئی ہو۔آپ نے اپنے بیان میں ان ہولناک واقعات کی تمام ذمہ داری دونوں ڈومنینز پر مشترکہ طور پر ڈالی ہے اور ان فرائض کو جو حکومت برطانیہ پر بوجہ برطانوی دولت مشترکہ کے مرکز ہونے کے عائد ہوتے ہیں اُن کو اپنے بیان میں بالکل نہیں چھیڑا حالانکہ پاکستان اور ہندوستان نو آبادیوں کا اس دولت مشترکہ کا حصہ ہونے کی وجہ سے برطانوی حکومت کا فرض ہے کہ موجودہ ہولناک واقعات کے متعلق برطانوی حکومت کی پالیسی پر پوری پوری روشنی ڈالے اور جو کچھ اس سے ہوسکتا ہے ان ہولناک واقعات کو روکنے کیلئے کوئی معین قدم اُٹھائے۔مسٹر ایٹلی کی نظر سے یہ حقیقت مخفی نہیں ہونی چاہئے کہ شروع ہی سے ہندوستانی ڈومین نے جارحانہ روش اختیار کی ہوئی ہے اور جہاں تک ممکن ہے پاکستان کو کمزور اور نا کارہ بنانے کے لئے جائز و نا جائز ہر قسم کے طریقے اختیار کر رہی ہے ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ برطانوی مقتدر