انوارالعلوم (جلد 19) — Page 240
انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۴۰ الفضل کے اداریہ جات کی کوشش یہ ہے کہ اگر کسی حکومت سے ملنا ہی پڑے تو وہ ہندوستان سے ملے۔مسلمانوں میں پھوٹ ڈال کر ان میں سے ایک حصہ کو ہندوستان کے ساتھ شامل ہونے کی تائید میں کھڑا کیا جا رہا ہے۔مگر ظاہری طور پر ان سے یہ اعلان کرایا جا رہا ہے کہ وہ کسی کے ساتھ ملنا نہیں چاہتے اور آخری فیصلہ اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں مگر حقیقت یہ نہیں ، حقیقت یہی ہے کہ کشمیر مخفی سمجھوتہ ہندوستان سے کر چکا ہے اور دنیا کو یہ دکھانے کے لئے کہ کشمیر نے جو فیصلہ کیا ہے مُلک کی اکثریت کی رائے کے مطابق کیا ہے اس فیصلہ کو چھپایا جا رہا ہے اور یہ کوشش کی جارہی ہے کہ مسلمانوں کا کچھ حصہ تو ڑ کر ملک کی اکثریت سے بھی یہ اعلان کروا دیا جائے کہ وہ انڈین یونین میں ملنا چاہتے ہیں لیکن چونکہ مسلمان اس وقت اس فیصلہ کے ساتھ اتفاق ظاہر کرنے کیلئے تیار نہیں پہلے ان سے یہ منزل طے کروائی جا رہی ہے کہ ہم نہ ہندوستان میں ملنا چاہتے ہیں نہ پاکستان میں۔جب یہ منزل طے ہو جائے گی اور مسلمانوں میں تفرقہ پیدا ہو جائے گا تو پھر اس تفرقہ سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے وہ مسلمان جو اپنے بھائیوں سے پھٹ چکے ہونگے اور پاکستان کی مخالفت کر چکے ہونگے انہیں ہندوستان یونین میں شامل ہونے کے فیصلہ پر آمادہ کر لیا جائے گا۔ہم نے اوپر جو کچھ لکھا ہے اس سے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ حیدر آباد اور کشمیر کے سوال متوازی ہیں اور ایک کا فیصلہ دوسرے کے فیصلہ کے ساتھ بندھا ہوا ہے جب تک ان میں سے کوئی ایک حکومت فیصلہ نہیں کرتی اُس وقت تک پاکستان کے ہاتھ مضبوط ہیں۔عقلی طور پر ان دونوں ریاستوں کے فیصلے دو اصول میں سے ایک پر مبنی ہو سکتے ہیں یا تو اس اصل پر کہ جدھر راجہ جانا چاہے اُس کو اجازت ہو۔اگر یہ اصل تسلیم کر لیا جائے تو حیدر آباد پاکستان میں شامل ہو سکتا ہے یا آزادی کا اعلان کر کے پاکستان سے معاہدہ کر سکتا ہے اور کشمیر ہندوستان یونین میں شامل ہوسکتا ہے۔اس صورت میں پاکستان کی آبادی میں پونے دو کروڑ کی زیادتی ہو جائے گی اور ایک طاقتور حکومت جس میں کثرت سے معدنیات پائی جاتی ہیں پاکستان کو مل جائیں گی اور بوجہ پاکستان میں شمولیت کے ہندوستان اس کے ذرائع آمد و رفت کو بھی بند نہیں کر سکے گا کیونکہ اس طرح وہ پاکستان سے جنگ کرنے والا قرار پائے گا دوسرے اس اصل پر فیصلہ ہوسکتا ہے کہ