انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 222

انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۲۲ الفضل کے اداریہ جات بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ پاکستان کا دفاع پاکستان کے دفاع کا موضوع ہر مجلس میں زیر بحث آ رہا ہے۔ہر اخبار اس پر بحث کر رہا ہے اور ہر انجمن اس پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہے اس موضوع کے متعلق کئی سوال سوچنے والے ہیں اور کئی مشکلات حل کرنے والی ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ مسئلہ دیر تک لٹکایا جا سکتا ہے؟ کیا پاکستان کا مستقبل اس سوال کے فوری حل کا تقاضا نہیں کرتا ؟ کیا پاکستان چاروں طرف سے دشمنوں میں گھرا ہوا نہیں ؟ کیا اس کی طرف اعداء کی انگلیاں بُرے ارادوں سے نہیں اُٹھ رہیں؟ اگر ایسا ہے اور ضرور ہے تو ہمیں جلد سے جلد اس بارے میں کوئی تدبیر کرنی چاہئے۔پاکستان کی گل فوج ۸۰ ہزار ہے جس میں سے لڑنے والے سپاہی صرف ۳۴ ہزار ہیں۔کہا جاتا ہے کہ ۳۴ ہزار آدمی پاکستان کی لمبی سرحد کی حفاظت نہیں کر سکتا اس لئے پاکستان کی فوج کی تعدا د اور بھی کم کر دینی چاہئے اور اسے زیادہ سے زیادہ مشینی جتھوں کی صورت میں تبدیل کر دینا چاہئے۔اس میں کوئی طبہ نہیں کہ جرمن کی جنگ میں یہ ثابت ہو گیا ہے کہ مشینی جتھے نہایت ہی کارآمد ہیں لیکن اس میں بھی کوئی محبہ نہیں کہ مشینی جتھے ایسے ہی ممالک میں کام آتے ہیں جہاں دونوں طرف کثرت سے پختہ سڑکیں پائی جاتی ہوں۔ہندوستان کے ملک میں پنجاب میں بڑی پکی سڑک تو ایک ہی ہے باقی تھوڑے تھوڑے فاصلہ پر معمولی قسم کی پکی سڑکیں آتی ہیں اور اکثر کچے راستے ہیں ایسی جگہ پر مشینی دستے عمدہ طور پر کام نہیں کر سکتے اور نہ اپنے عقب کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ایسے ملک میں گھوڑ سوار فوج اور سائیکل فوج اور پیدل فوج بڑی آسانی سے مشینی دستوں کا رستہ کاٹ سکتی اور ان کے حملہ کو بریکار کر سکتی ہے اس لئے جہاں پاکستان کو کچھ مشینی دستوں کی ضرورت ہے وہاں اسے ایسی فوج کی بھی ضرورت ہے جو بے سڑک والے علاقوں