انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 204 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 204

انوارالعلوم جلد ۱۹ ۲۰۴ الفضل کے اداریہ جات ہمیں افسوس ہے کہ اب تک پبلک نے اپنی ذمہ داری کو نہیں سمجھا۔ہر سمجھانے والے کو یہ کہا جاتا ہے کہ مشرقی پنجاب کو دیکھو وہاں مسلمانوں پر کیا ظلم ہورہا ہے مگر ایسا کہنے والا یہ غور نہیں کرتا کہ خوداسی کا جواب اسے مجرم بنا رہا ہے۔مشرقی پنجاب کا سکھ اور ہندو کیوں ظالم ہے اس لئے کہ اسے وہاں کے مسلمان کو دکھ دینے یا قتل کرنے کا کوئی قانونی حق حاصل نہیں۔اگر یہ اصول ٹھیک ہے تو کیا یہ اصول اس مسلمان پر چسپاں نہیں ہوتا جو مغربی پنجاب میں کسی ایسے سکھ یا ہندو کو دق کرتا یا اسے قتل کرتا ہے جو مغربی پنجاب کو چھوڑنا پسند نہیں کرتا اور ہمارے ساتھ رہنے پر رضامند ہے۔اگر اس سکھ یا ہندو کو مارنا یا دق کرنا ہمارے لئے جائز ہے تو پھر مشرقی پنجاب کے سکھ اور ہندو پر بھی ہم کوئی اعتراض نہیں کر سکتے کیونکہ یہ درندوں والا قانون ہے اور اسی درندوں والے قانون پر وہ عمل کر رہا ہے اور ہم سے بہت زیادہ زور سے وہ عمل کر رہا ہے۔اگر یہ فعل قابل تعریف بات ہے تو مشرقی پنجاب کا سکھ اور ہندو ہم سے بہت زیادہ قابل تعریف کام کر رہا ہے۔کیونکہ جتنے سکھ ہندو، مسلمان مارتے ہیں ان سے کئی گناہ زیادہ مسلمانوں کو وہ قتل کر رہا ہے۔وہ ہم سے کئی گنا زیادہ مسلمانوں کو دق کر رہا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ بارہا یہودیوں اور عیسائیوں سے فرماتا ہے کہ تم مسلمان تو نہیں مگر کسی مذہب کو تو ماننے والے ہو کم سے کم تمہیں اپنے مذہب پر تو عمل کرنا چاہئے۔جب تک تم اپنے مذہب پر عمل نہ کرو اس وقت تک تمہاری کوئی حیثیت نہیں۔یہ قانون ہمیں بھی اپنے متعلق یا درکھنا چاہئے۔ہم مسلمان ہیں ہمیں اسلام کے احکام پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ہم سکھ اور ہندو نہیں کہ ہم سکھوں اور ہندوؤں کا طریق اختیار کریں۔مصر کا ایک واقعہ مشہور ہے کہ ایک عیسائی روزانہ یہ تقریر لوگوں کے اندر کیا کرتا کہ اگر کوئی تیرے ایک گال پر تھپڑ مارے تو تُو اپنا دوسرا گال بھی اس کی طرف پھیر دے تے اور اس سے وہ اپنے مذہب کی فضیلت ثابت کیا کرتا تھا۔ایک دن ایک مسلمان وہاں سے گزرا اور اس نے آگے بڑھ کر ایک تھپڑ اُسے مارا۔پادری نے اس کو پکڑ لیا اور پولیس کو آواز دی۔اس شخص نے کہا پادری صاحب ! آپ تو روزانہ وعظ کیا کرتے ہیں کہ انجیل کی تعلیم نہایت اعلیٰ ہے وہ کہتی ہے کہ اگر کوئی تیرے ایک گال پر تھپڑ مارے تو تو اپنا دوسرا گال بھی اس کی طرف پھیر دے۔پادری نے جواب میں کہا مگر آج تو میں