انوارالعلوم (جلد 18) — Page 73
انوار العلوم جلد ۱۸ ۷۳ اسلام کا اقتصادی نظام تو اس کام کو کام ہی نہیں سمجھتے وہ کسی کو قرآن کریم اور تفسیر اور عربی بارہ سال تک پڑھنے اور پھر دوسروں کو پڑھانے کا موقع کب دے سکتے ہیں۔وہ تو ایسے شخص کو یا قید کر دیں گے یا اس کا کھانا پینا بند کر دیں گے کہ وہ نکما اور قوم پر بوجھ ہے۔اسی طرح حدیث کا علم بھی علاوہ درجنوں حدیث کی کتب کے ، درجنوں اُن کی تشریحات کی کتب کے اور اس کے ساتھ لغت اور صرف ونحو اور اسماء الرجال کی کتب پر مشتمل ہے بغیر حدیث کے علم کے مسلمانوں کو اسلام کی تفصیلات کا علم ہی نہیں ہوسکتا۔اور بغیر اس علم کے ماہرین کے جو اپنی عمر اس علم کے حصول میں خرچ کریں مسلمانوں میں اس علم کی واقفیت پیدا ہی نہیں ہو سکتی مگر کمیونزم تو اس علم کے پڑھنے کو بھی لغو اور فضول اور بے کار قرار دیتی ہے۔وہ اس علم کے پڑھنے اور پڑھانے والوں کو اپنی عمر اس علم کے حصول میں قطعاً خرچ نہ کرنے دے گی۔یا ایسے آدمی کو قید کرے گی یا اُسے فاقوں سے مارے گی کیونکہ وہ اُس کے نزدیک بریکار وجود ہے اور قوم پر بار۔مگر مسلمان بغیر اس علم کے ماہرین کے اپنے دین سے نہ واقف ہو سکتے ہیں نہ اس پر کار بند ہو سکتے ہیں۔اسی طرح علم فقہ، علم قضاء، علم تاریخ اسلام، علم تصوف، علم معاش اسلامی علم اقتصاد اسلامی ایسے علوم ہیں کہ اُن کے جاننے والوں کے بغیر اسلامی جماعت کو جہاں تک اسلام کا تعلق ہے زندہ نہیں رکھا جا سکتا۔مگر کمیونزم نہ اِن علوم کے پڑھانے والوں کو اپنے ملک میں رہنے دے سکتی ہے اور نہ پڑھنے والوں کو۔کیونکہ وہ ان لوگوں کو بے کا ر قرار دے کر ان کے لئے گزارہ کی صورت پیدا نہیں کرتی اور عوام کے پاس سوویٹ اقتصادیات کے ماتحت اس قد ر روپیہ نہیں ہو سکتا کہ وہ ان لوگوں کے گزارہ کی خود صورت پیدا کریں جیسا کہ ہندوستان ، چین ، عرب وغیرہ ممالک میں مسلمان اسلامی علماء اور طلباء کے گزارہ کی صورت پیدا کر رہے ہیں۔حق یہ ہے کہ اسلام اور دیگر مذاہب اور کمیونزم کے کام کی تشریح میں سخت اختلاف ہے۔اسلام اور کمیونزم کے کام ہمارے نزدیک جو شخص مشین چلا رہا ہے وہ بھی کام کر رہا ہما ہے اور جو شخص مذہب پھیلا رہا ہے وہ بھی کام کر رہا ہے کی تشریح میں اختلاف اور جو مذہب کی تعلیم دے رہا ہے وہ بھی کام کر رہا ہے اور جو مذہب کی تعلیم حاصل کر رہا ہے وہ بھی کام کر رہا ہے۔مگر اُن کے نزدیک جو شخص مشین چلاتا