انوارالعلوم (جلد 18) — Page 33
انوار العلوم جلد ۱۸ ۳۳ اسلام کا اقتصادی نظام آزادی نہ دی گئی ہو تو جن کاموں کو وہ نیک سمجھتا ہے، جن کا موں کو اختیار کرنا وہ اپنی اُخروی حیات کے لئے ضروری قرار دیتا ہے اُن میں اُس کا دائرہ عمل وسیع نہیں ہوگا اور وہ سمجھے گا کہ دائرہ عمل کے تنگ ہونے کی وجہ سے میں گھاٹے میں رہوں گا۔گویا مَا بَعْدَ الْمَوْتِ اعلیٰ زندگی کا دارو مدار ہے اس دنیا کے طوعی نیک کاموں پر ، اور طوعی نیک کاموں کا مدار اقتصادی حریت پر ہے۔اگر اقتصادی طور پر افراد کو ایک وسیع دائرہ میں آزادی نہ دی جائے تو طوعی نیک کاموں کا سلسلہ اور اخلاق فاضلہ کی وسعت بند اور محدود ہو جاتی ہے اور انسان اپنے آپ کو گھاٹے میں سمجھتا ہے۔پس جو مذہب مرنے کے بعد کی زندگی کا قائل ہے اور اس دنیا کو عالم مزرعہ سمجھتا ہے وہ پابند ہے اس کا کہ سوائے اشد مجبوری کی حالتوں کے انفرادی آزادی کو اقتصادیات میں قائم رکھے۔اسلام کا اقتصادی نظام میں اس مسئلہ کو خوب ذہن نشین کر لینا چاہئے کہ اسلام سب سے زیادہ حیات بعد الموت انفرادی آزادی کو ملحوظ رکھنا کا قائل ہے اس لئے اسلام مصر ہے اس بات پر کہ اقتصادیات میں انفرادی آزادی کو زیادہ سے زیادہ قائم رکھا جائے کیونکہ وہ جتنا زیادہ آزاد ہو گا اُسی قدر زیادہ اپنی مرضی سے کام کر کے اگلے جہان کی زندگی کو سدھار سکے گا۔اگر زندگی کے ہر پہلو کو مختلف قسم کے جالوں میں جکڑ دیا گیا تو وہ کوئی کام اپنی مرضی سے نہیں کر سکے گا اور جب کوئی کام اپنی مرضی سے نہیں کر سکے گا تو اُسے اگلے جہان میں کسی ثواب کی بھی امید نہیں ہو سکے گی کیونکہ ثواب ملتا ہے طوعی نیک کاموں پر۔اگر ایک شخص جبر کے ماتحت کوئی کام کرتا ہے تو گو وہ کام کیسا ہی اچھا ہو جب اگلے جہان میں اعمال کی جزاء کا وقت آئے گا تو اُسے کہا جائے گا کہ یہ کام تم نے نہیں کیا لینن نے کیا ہے، یہ کا م تم نے نہیں کیا سٹالن نے کیا ہے، یہ کا م تم نے نہیں کیا انگریزوں نے کیا ہے۔غرض جتنے کام انسان جبر کے ماتحت کرتا ہے اُس میں وہ کسی اجر کا مستحق نہیں ہوتا۔پس ایک سچے مسلمان کو جو اپنے مذہب کی بنیاد کو سجھتا ہے حریت شخصی کے مٹا دینے کا قائل کرنا ناممکن ہے۔اُسی صورت میں وہ اس امر کو تسلیم کرے گا جب وہ اپنے مذہب کی بنیاد کا ہی انکار کر دے گا۔یہ تو ہوسکتا ہے کہ ایک شخص جو مسلمان کہلا تا ہو وہ اسلام کی تعلیم سے ا