انوارالعلوم (جلد 18) — Page 34
انوار العلوم جلد ۱۸ ۳۴ اسلام کا اقتصادی نظام بدظن ہو جائے اور وہ اُس تعلیم کا قائل ہی نہ رہے جو اسلام نے اقتصادیات کے متعلق دی ہے مگر جو شخص اسلام کی تعلیم پر یقین رکھتا ہو جو اس کے اقتصادی نظریات کو جز وایمان قرار دیتا ہو وہ کبھی بھی حریت شخصی کو اصولی طور پر مٹا دینے کا قائل نہیں ہوسکتا۔اسلام کے اقتصادی نظام ان حالات میں یہ امر آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر اسلام کے اقتصادی نظام اسلام کوئی منصفانہ اور عادلانہ اقتصادی نظام قائم کی بنیاد دو اصولوں پر کرے گا تو اُس کی بنیاد ان دو اصولوں پر ہوگی۔(۱) بنی نوع انسان میں منصفانہ تقسیم اموال اور مناسب ذرائع کسب کی تقسیم کا اصول طوعی فردی قربانی پر ہونا چاہئے تا کہ دنیا کی اقتصادی حالت بھی درست ہو اور اس کے ساتھ ہی انسان اپنی اُخروی زندگی کے لئے بھی سامان جمع کر لے۔اسی لئے رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اپنی بیوی کے منہ میں ثواب اور خدا تعالیٰ کی خوشنودی کی نیت سے لقمہ ڈالتا ہے وہ ایسا ہی کام کرتا ہے جیسا کہ صدقہ کرنے والا۔اب دیکھو یہ فعل وہ ہے جس میں انسان کی اپنی خواہش کا دخل ہے۔وہ اپنی بیوی سے محبت کرتا ہے، وہ اپنی بیوی سے پیار کرتا ہے اور اُس سے محبت کرنے میں لذت حاصل کرتا ہے لیکن اگر وہ اپنی نیت کو بدل ڈالے اور بجائے اپنی محبت کے خدا تعالیٰ کے حکم اور اُس کی رضا اور خوشنودی کو محبت اور پیار کا موجب بنالے تو یہی چیز اُس کے لئے ثواب کا موجب بن جائے گی۔روٹی اُس کے پیٹ میں اُسی طرح جائے گی جس طرح پہلے جاتی تھی ، کپڑا اُس کی بیوی کے تن پر وہی مقصد پورا کرے گا جو مقصد وہ پہلے پورا کرتا تھا مگر اس صورت میں جب وہ خدا کے لئے اُس سے محبت کرے گا، جب وہ خدا کے لئے اُس سے پیار کرے گا نہ صرف وہ اپنی بیوی کو خوش کرے گا، نہ صرف وہ اپنے آپ کو خوش کرے گا بلکہ اللہ تعالیٰ سے بھی ثواب کا امیدوار ہوگا کیونکہ اُس نے یہ فعل خدا کی رضا کے لئے کیا ہوگا۔(۲) دوسرا اصل اسلام کا یہ ہے کہ چونکہ اموال اللہ تعالیٰ کے ہیں اور اُس نے سب مخلوق کیلئے پیدا کئے ہیں اس لئے جو حصہ اوپر کی تدبیر سے پورا نہ کیا جا سکے اُس کیلئے قانونی طور پر تدارک کی صورت پیدا کی جائے۔یعنی جو حصہ طوعی نظام سے پورا نہ ہوا اور ادھورا رہ جائے اُسے قانونی