انوارالعلوم (جلد 18) — Page 394
انوارالعلوم جلد ۱۸ ۳۹۴ فریضہ تبلیغ اور احمدی خواتین تکلیفیں بہت جلد دور کرے گا اور تمہیں ان تکلیفوں سے نجات دے گا یہ اس کے دو تین دن بعد وہ مرد تو ان تکالیف کو برداشت نہ کر سکنے کی وجہ سے اس جہان سے کوچ کر گیا اور اُس عورت کو مالک نے نیزہ مار کر مار دیا۔یہ لوگ غلام تھے آزاد خاندانوں میں سے نہ تھے اور غلاموں کے متعلق سمجھا جاتا ہے کہ ان کے ذہن بلند نہیں ہوتے ، ان کی عقل معمولی نوکروں سے بھی کم ہوتی ہے کیونکہ وہ نسلاً بعد نسل غلام چلے آتے ہیں لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لے آنے کی وجہ سے وہ ایسے ذہین اور بلند حوصلہ ہو گئے کہ انہوں نے ہر قربانی کی مگر خدائے واحد کی توحید کا انکار نہ کیا۔انہی غلاموں میں سے حضرت بلال بھی تھے جن کو ان کا مالک شدید سے شدید تکلیفیں دیتا تھا مگر میں تمہیں عورتوں کی مثالیں بتانا چاہتا ہوں ایک مثال اُوپر بیان کر آیا ہوں اور عورتوں کی قربانیوں کا کچھ اور ذکر تمہارے سامنے کرتا ہوں۔مکہ میں جب تکلیفیں حد سے بڑھ گئیں اور دشمن شرارتوں میں دن بدن بڑھتے جارہے تھے ، جب تکلیفیں برداشت سے باہر ہو گئیں تو رسول کریم ﷺ نے اپنے صحابہ کو مشورہ دیا کہ وہ ایبے سینیا کی طرف ہجرت کر جائیں۔انہوں نے عرض کیا یا رَسُولَ اللهِ ! آپ تو یہاں تکلیفوں میں رہیں اور ہم دوسرے ملک میں جا کر آرام سے زندگی بسر کریں۔آپ نے فرمایا ! ابھی میرے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہجرت کرنے کی اجازت نہیں آئی تم ہجرت کر جاؤ جب مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت مل جائے گی تو میں ہجرت کروں گا لے ان ہجرت کرنے والوں میں ایک عورت بھی تھی جو کہ اپنے خاوند کے ساتھ اونٹوں پر صبح سویرے سامان لدوا رہی تھی حضرت عمرؓ اُس وقت تک اسلام نہیں لائے تھے آپ پھرتے پھراتے اس رستہ سے گزرے۔آپ نے جب یہ نظارہ دیکھا تو آپ کی طبیعت پر اس نظارہ کا بہت گہرا اثر ہوا عربوں میں بے شک کفر تھا، گناہ تھا لیکن وہ بہادر تھے اور کمزور اور ضعیف پر اُن کا ہاتھ نہ اُٹھتا تھا حضرت عمرؓ نے دیکھا کہ صبح صبح ایک عورت مکہ کو ہمیشہ کے لئے چھوڑنے والی ہے تو آپ نے رقت بھری آواز میں اُس عورت سے پوچھا بی بی ! ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم سفر کی تیاری کر رہی ہو۔اُس عورت نے کہا ہم نے یہاں سے چلے جانے کا ارادہ کیا ہے اب تمہاری تکلیفیں