انوارالعلوم (جلد 18) — Page 14
انوار العلوم جلد ۱۸ ۱۴ ہیں۔کوئی معتین اور مقررہ پالیسی ان کے سامنے نہیں ہوتی۔اسلام کا اقتصادی نظام دوسرا نظام قومی ہوتا ہے۔یعنی بعض قو میں دنیا میں ایسی ہیں جو صرف قومی اقتصادی نظام کو اختیار کرتی ہیں اور وہ ملک کے نظام کو ایسے رنگ میں چلاتی ہیں جس سے بحیثیت مجموعی اُن کی قوم کو فائدہ ہو۔تیسرا نظام انفرادی ہوتا ہے جس میں افراد کو موقع دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے اپنے طور پر ملک کی اقتصادی حالت کو درست کرنے اور اُسے ترقی دینے کی کوشش کریں۔مزدوروں کو موقع دیا۔جاتا ہے کہ وہ اپنے حقوق کے لئے جدو جہد کریں اور سرمایہ داروں کو موقع دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے حقوق کے لئے جدو جہد کریں۔اسی طرح ملازموں کو حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنے افسروں سے تنخواہوں وغیرہ کے متعلق بحث کر کے فیصلہ کریں اور افسروں کو حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ ملازموں کے متعلق قواعد وضع کریں۔گویا اس نظام میں انفرادیت پر زور دیا جاتا ہے۔یہی تین قسم کے اقتصادی نظام اس وقت دنیا میں پائے جاتے ہیں۔ایک بے قانون ، دوسرا قومی اور تیسرا انفرادی۔یعنی بعض میں کوئی بھی آئین نہیں بعض میں قومی کا روبار پر بنیاد ہوتی ہے اور بعض میں انفرادی کا روبار پر۔اسلام غیر آئینی نظام کو تسلیم ہی نہیں کرتا بلکہ وہ ایک آئینی نظام کو قائم کرتا اور اُس کے ماتحت چلنے کی لوگوں کو ہدایت دیتا ہے۔وہ ہر چیز کو حکمت اور دانائی کے ماتحت اختیار کرنے کا قائل ہے۔وہ اس بات کا قائل نہیں کہ نظام اور آئین کو نظر انداز کر کے جو راستہ بھی سامنے نظر آئے اُس پر چلنا شروع کر دیا جائے۔غیر آئینی نظام والوں کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے جنگل میں آپ ہی آپ جو ٹوٹیاں آگ آتی ہیں انہیں کھانا شروع کر دیا جائے۔مگر اسلام کی مثال اُس شخص کی طرح ہے جو باقاعدہ ایک باغ لگاتا ، اس کی آبپاشی کرتا اور اُس کے پودوں کی نگرانی رکھتا ہے۔وہ جانتا ہے کہ کونسی چیز مجھے اس باغ میں رکھنی چاہئے اور کونسی چیز نہیں رکھنی چاہئے۔اسلام کی اقتصادی تعلیم کا ماحول میں نے اوپر جو ماحول اسلام کی تعلیم کا بیان کیا ہے وہ ماحول اسلام کی اقتصادی تعلیم کیلئے بھی ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر اسلام کی اقتصادی تعلیم دنیا میں کامیاب نہیں ہوسکتی چونکہ