انوارالعلوم (جلد 18) — Page 15
انوارالعلوم جلد ۱۸ ۱۵ اسلام کا اقتصادی نظام اس ماحول کا اسلام کی اقتصادی تعلیم کے ساتھ ایک گہرا تعلق تھا اس لئے ضروری تھا کہ میں اسے بیان کرتا اور بتا تا کہ کس ماحول میں اسلام نے دنیا کے سامنے ایک مفید اور اعلیٰ درجہ کا اقتصادی نظام رکھا ہے۔بہر حال جیسا کہ میں نے بتایا ہے اسلام غیر آئینی نظام کو تسلیم نہیں کرتا البتہ دوسرے دو نظاموں کے درمیان ایک راستہ پیش کرتا ہے مگر بنیادی اصول اسلام کے اقتصادیات کا ، ان ہی پہلے حقائق پر قائم ہے جن کو اوپر بیان کیا جا چکا ہے۔اموال کے متعلق اسلام کا اقتصادی نظریہ اسلام کا اقتصادی نظریہ اموال کے متعلق یہ ہے۔فرماتا ہے۔هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ہے یعنی جس قدر چیزیں دنیا میں پائی جاتی ہیں وہ سب کی سب خدا تعالیٰ نے بنی نوع انسان کے فائدہ کے لئے پیدا کی ہیں۔اگر تمہیں دنیا میں پہاڑ نظر آتے ہیں ، اگر تمہیں دنیا میں دریا نظر آتے ہیں، اگر تمہیں دنیا میں کا نیں نظر آتی ہیں ، اگر تمہیں دنیا میں ترقی کی اور ہزاروں اشیاء نظر آتی ہیں تو تمہیں سمجھ لینا چاہئے کہ اسلام کا نظریہ ان اشیاء کے متعلق یہ ہے کہ یہ سب کی سب بنی نوع انسان میں مشترک ہیں اور سب بحیثیت مجموعی اِن کے مالک ہیں۔کانوں سے بہت کچھ فائدہ اُٹھایا جاتا ہے، دریاؤں سے بہت کچھ فائدہ اُٹھایا جاتا ہے، پہاڑوں سے بہت کچھ فائدہ اُٹھایا جاتا ہے، مثلاً بجلیاں پیدا کی جاتی ہیں ، سونا چاندی اور دوسری قیمتی دھاتیں حاصل کی جاتی ہیں یا دوائیں وغیرہ وہاں پائی جاتی ہیں جن سے انسان فائدہ اُٹھاتا ہے علاج معالجہ کے رنگ میں بھی اور تجارت کے رنگ میں بھی یا اسی قسم کی اور ہزاروں چیزیں ہیں جو صنعت وحرفت میں کام آتی ہیں ان سب کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تخلق لکم اے بنی نوع انسان ! یہ سب کی سب چیزیں تمہارے لئے پیدا کی گئی ہیں۔یہ زید کی خاطر نہیں ، یہ بکر کی خاطر نہیں ، یہ نمرود کی خاطر نہیں ، یہ ہٹلر کی خاطر نہیں ، یہ سٹالن کی خاطر نہیں ، یہ چرچل کی خاطر نہیں ، یہ روز ویلٹ کی خاطر نہیں بلکہ ہر فرد بشر جو دنیا میں پیدا ہوا ہے اُس کے لئے خدا نے یہ چیزیں پیدا کی ہیں پس کوئی ہو ، حاکم ہو محکوم ہو ، بڑا ہو چھوٹا ہو، سیّد ہو چمار ہو ، کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ چیزیں صرف میرے لئے پیدا کی گئی ہیں۔قرآن کریم فرماتا