انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 317 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 317

انوار العلوم جلد ۱۸ ۳۱۷ ہر کام کی بنیاد حق الیقین پر ہونی چاہیئے اور مختلف لوگ ان محکموں کے انچارج ہیں مگر جب بھی کسی محکمہ میں کوئی نقص واقعہ ہوتا ہے اس کی بنیادی وجہ یہی ہوتی ہے کہ کام کی اہمیت کو نظر انداز کر کے علم الیقین پر بنیا درکھ لی جاتی ہے اور یہ خیال کر لیا جاتا ہے کہ کام ہو گیا ہو گا حالانکہ وہ کام نہیں ہوا ہوتا۔میں نے پرائیویٹ سیکرٹری کے محکمہ کو دیکھا ہے جب بھی ان سے کہو کہ فلاں کام اس طرح کر دیا جائے اور پھر دو گھنٹہ کے بعد پوچھا جائے کہ کام ہو گیا ہے تو پرائیویٹ سیکرٹری جواب دے گا، میں نے فلاں کو کہہ دیا تھا اس سے پوچھ کر جواب دیتا ہوں کہ کام ہو گیا ہے یا نہیں۔حالانکہ فلاں کو کہہ دینا یہ علم الیقین ہے بلکہ علم الیقین سے بھی پہلے کی چیز ہے اور اس پر اپنے کاموں کی بنیا د رکھ کر فرض کر لینا کہ کام ہو گیا ہے یا ہو رہا ہے بالکل ویسی ہی بات ہوتی ہے جیسے ہمارے ہاں مشہور ہے کہ کوئی شخص کسی کے گھر مہمان آیا۔اُس نے اپنے نوکر کو ہر قسم کے ضروری آداب سکھائے ہوئے تھے جس کی وجہ سے وہ بر وقت اور نہایت عمدگی سے کام کرنے کا عادی تھا۔اتفاقاً مہمان کے سامنے میز بان کو کسی چیز کی ضرورت پیش آگئی مثلاً دہی کی ضرورت محسوس ہوئی اور اس نے اپنے نوکر کو دہی لانے کے لئے بازار بھیج دیا اور اس دوست سے کہا کہ میرا نوکر بہت مؤدب اور فرض شناس ہے جو کام بھی اسے کرنے کے لئے کہا جائے ٹھیک وقت کے اندر سے سرانجام دیتا ہے۔چنانچہ کہنے لگا دیکھ لیجئے میں نے اسے دہی لینے کے لئے بازار بھیجا ہے اور دُکان تک دو چار منٹ کا راستہ ہے۔اب چونکہ ایک منٹ گزر چکا ہے اس لئے مجھے یقین ہے کہ وہ فلاں جگہ تک پہنچ گیا ہو گا تھوڑی دیر کے بعد کہنے لگا اب مجھے یقین ہے کہ وہ دُکان تک پہنچ گیا ہوگا ، پھر کچھ وقت انتظار کرنے کے بعد جو سو داخرید نے پر صرف ہو سکتا تھا اس نے کہا اب مجھے یقین ہے کہ وہ دہی لے کر وہاں سے چل پڑا ہوگا ، تھوڑی دیر کے بعد کہنے لگا اب وہ فلاں نکڑ تک پہنچ گیا ہوگا ، کچھ اور دیر گزری تو کہنے لگا مجھے یقین ہے کہ اب وہ ڈیوڑھی میں آچکا ہے۔چنانچہ اس نے آواز دی کہ کیوں میاں رہی لے آئے؟ نوکر نے جواب دیا حضور ! حاضر ہے۔یہ نمونہ ایسا اعلیٰ درجہ کا تھا کہ اسے دیکھ کر ہر شخص کی طبیعت خوشی محسوس کرتی تھی۔چنانچہ مہمان بھی بہت خوش ہوا اور اس نے فیصلہ کیا کہ میں بھی اپنے نوکر کی ایسی ہی تربیت کروں گا مگر وہ مہمان خود اجڈ اور جاہل تھا۔اس نے اپنے نوکر سے تہذیب و شائستگی کے اصول کیا سکھانے تھے اس کے اپنے کاموں میں بھی کوئی باقاعدگی نہ پائی