انوارالعلوم (جلد 18) — Page 316
انوار العلوم جلد ۱۸ ہر کام کی بنیا حق الیقین پر ہونی چاہئے ا تصویر میں کیا فرق ہوگا یہی ہوگا کہ ماہر فن اس کی نوکیں پلکیں خوب درست کرے گا اور میں صرف بے ڈھنگی سی لکیریں کھینچ دینے پر اکتفا کر دوں گا۔پس کسی مضمون کا خالی بیان کر دینا اور بات ہوتی ہے اور اس کی نوک پلک درست کر کے اسے بیان کرنا اور بات ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے گو بعض جگہ وہی مضامین لئے ہیں جو پرانے صوفیاء بیان کرتے چلے آئے تھے مگر آپ کے بیان کردہ مضامین اور پہلے صوفیاء کے بیان کردہ مضامین میں وہی فرق ہے جو ایک اناڑی اور ماہر مصور کی بنائی ہوئی تصاویر میں ہوتا ہے۔انہوں نے تصویر اس طرح کھینچی ہے جیسے ڈرائنگ کا ایک طالب علم کھینچتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تصویر اس طرح کھینچی ہے جس طرح ایک ماہر فن تصویر کھینچ کر اپنے کمالات کا دنیا کے سامنے ثبوت پیش کرتا ہے اور پھر ہر بات پر قرآن کریم سے شاہد پیش کر کے بتایا ہے کہ اس مضمون کا بتانے والا قرآن کریم ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس تشریح کے مطابق علم الیقین تو یہ ہوتا ہے کہ زید یا بکر ہمارے پاس آئے اور وہ ہمیں بتائے کہ فلاں بات یوں ہے جیسے ایک شخص ہمارے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے تمہارے گھر میں گوشت پہنچا دیا ہے۔ہم اُس کی بات سنتے اور خیال کر لیتے ہیں کہ اس نے ٹھیک ہی کام کیا ہوگا حالانکہ ہوسکتا ہے کہ اس نے گوشت نہ پہنچایا ہو اور محض دھوکا دینے کے لئے ہمیں ایک غلط خبر دے دی ہو۔دنیا میں بہت سی خرابیاں بالعموم علم الیقین سے پیدا ہوتی ہیں۔اگر کاموں کی بنیاد علم الیقین کی بجائے حق الیقین پر رکھی جائے اور اُس وقت تک انسان اطمینان حاصل نہ کرے جب تک اُسے یہ یقین حاصل نہ ہو جائے کہ جو کام میرے سپر د کیا گیا تھا یا جو کام میں کرنا چاہتا تھا وہ اپنی تکمیل کو پہنچ گیا ہے تو وہ نقائص جو عمو ماً واقع ہوا کرتے ہیں اور جن کی بناء پر بعض دفعہ بڑی بڑی خرابیاں پیدا ہو جایا کرتی ہیں کبھی واقع نہ ہوں۔مجھے اپنی ساری عمر میں لوگوں سے کام لینے میں اگر کوئی دقت پیش آئی ہے تو وہ یہی ہے کہ جو شخص بھی کام کرتا ہے علم الیقین پر اس کی بنیا د رکھتا ہے حق الیقین پر بنیاد نہیں رکھتا۔میں نے یغہ جات مقرر کئے ہوئے ہیں، مختلف محکمے کام کی سہولت کے لئے قائم کئے ہوئے ہیں