انوارالعلوم (جلد 18) — Page 311
۳۱۱ پارلیمینٹری مشن اور ہندوستانیوں کا فرض انوارالعلوم جلد ۱۸ مطابق صرف تیرہ زمیندار ایسے ہیں جو آٹھ ہزار سے زیادہ ریونیو دیتے ہیں (یعنی جن کی آمد رائج الوقت مال گزاری کے اصول کے مطابق ۱۶ ہزار سالانہ سے زائد ہے اس سے کم آمد ہرگز کسی کو بڑا زمیندار نہیں بنا سکتی بلکہ یہ آمد بھی بڑی نہیں کہلا سکتی اتنی آمد معمولی معمولی دُکانداروں کی بھی ہوتی ہے گو وہ ٹیکس سے بچنے کے لئے ظاہر کریں یا نہ کریں۔زمیندار کا صرف یہی قصور ہے کہ وہ اپنی حیثیت ظاہر کرنے پر مجبور ہے ) ان میں غالباً کچھ غیر مسلم بھی ہوں گے اگر سب مسلمان ہی ہوں تو بھی یہ کوئی بڑی تعداد نہیں اور جب یہ دیکھا جائے کہ یہ لوگ جس قدر ریونیو ادا کرتے ہیں وہ پنجاب کے گل ریونیو کے سویں حصہ سے بھی کم ہے تو صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ پنجاب کی اکثر زمین چھوٹے زمینداروں کے پاس ہے بڑے زمینداروں کے پاس نہیں۔بڑا زمیندارہ صرف یوپی اور بنگال میں ہے لیکن وہاں کے بڑے زمینداروں میں اکثریت ہندوؤں کی ہے جن میں سے اکثریت کانگرس کی تائید میں ہے۔مگر اس کے بھی یہ معنی نہیں کہ ہندو اکثریت کانگرس کے ساتھ نہیں اور زمینداروں کے ساتھ شامل ہوتے ہوئے بھی کانگرس کی نمائندگی پر کوئی حرف نہیں آتا۔ایک نصیحت میں کانگرس کو خصوصاً اور عام ہندوؤں کو عموماً یہ کرنا چاہتا ہوں کہ تبلیغ مذہب اور تبدیلی مذہب کے متعلق وہ اپنا رویہ بدل لیں۔مذہب کے معاملہ میں دست اندازی کبھی نیک نتیجہ پیدا نہیں کر سکتی وہ مذہب کو سیاست میں بدل کر کبھی چین نہیں پا سکتے۔تبلیغ مذہب اور مذہب بدلنے کی آزادی انہیں ہندوستان کے اساس میں شامل کرنی چاہئے اور اس طرح اس تنگ ظرفی کا خاتمہ کر دینا چاہئے جو ان کی سیاست پر ایک داغ ہے اور اس تنگی کو کوئی آزاد شخص بھی برداشت نہیں کر سکتا۔جب تک ملک کی ذہنیت غلامانہ ہے ایسی باتیں چل جائیں گی لیکن جب حریت کی ہوا لوگوں کو لگی ایسے غلط نظریوں کے خلاف نفرت کے جذبات بھڑک اُٹھیں گے نبدیلی تو ہو کر رہے گی لیکن جو لوگ اس تنگ ظرفی کے ذمہ دار ہونگے وہ ہمیشہ کے لئے اپنی اولادوں کی نظروں میں ذلیل ہو جائیں گے۔وہ فطرت کے اس تقاضہ کو اس حقیقت سے سمجھ سکتے ہیں کہ بادشاہ اور نگ زیب کو سب سے زیادہ بد نام کرنے والا وہ غلط الزام ہے کہ اس نے مذہب میں دست اندازی کی۔ان کا یہ خیال کہ ہم دوسرے کا مذہب بدلوانے پر زور نہیں دیتے