انوارالعلوم (جلد 18) — Page 310
انوار العلوم جلد ۱۸ ۳۱۰ پارلیمینٹری مشن اور ہندوستانیوں کا فرض کے مکان پر کیوں ٹھہرتے ہیں۔یقیناً مسٹر گاندھی کو مسٹر برلا کے مکان پر ٹھہرنے کا پورا حق ہے کیونکہ وہاں ان سے ملنے والوں کے لئے سہولتیں میسر ہیں ان کے وہاں ٹھہر نے سے ہرگز یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ مالداروں کے قبضہ میں ہیں اسی طرح مسلم لیگ کے امیدوار اگر بڑے زمیندار ہوں اور مسلم پبلک اُن کو منتخب کرے تو اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ وہ لوگ مسلمانوں کے نمائندے نہیں ہیں۔اگر کوئی شخص اپنے لئے غلط قسم کا نمائندہ چتا ہے تو وہ اپنے کئے کی سزا خود بھگتے گا دوسرے کسی شخص کو اس کے نمائندہ کی نمائندگی میں شبہ کرنے کا حق نہیں یہ باتیں صرف لڑائی جھگڑے کو بڑھانے کا موجب ہوتی ہیں اور کوئی فائدہ ان سے حاصل نہیں ہوتا۔پھر یہ بات ہے بھی تو غلط کہ مسلم لیگ کے اکثر نمائندے بڑے زمیندار ہیں پنجاب ہی کو لے لو اس میں ۷۹ ممبر اس وقت مسلم لیگ کے نمائندے ہیں اور چھ یونینسٹ پارٹی کے جن سے کانگرس نے سمجھوتہ کیا ہے۔یونینسٹ پارٹی کے چھ نمبروں میں سے ملک سر خضر حیات ، ملک سراللہ بخش اور نواب مظفر علی بڑے زمیندار ہیں گویا پچاس فیصدی ممبر بڑے زمیندار ہیں دوسرے تین کو میں ذاتی طور پر نہیں جانتا ممکن ہے ان میں سے بھی کوئی بڑا زمیندار ہو۔اس کے مقابل پر مسلم لیگ کے ۷۹ ممبروں میں سے صرف چار بڑے زمیندار ہیں یعنی نواب صاحب ممدوٹ ، نواب لغاری، مسٹر ممتاز دولتانہ اور مسٹر احمد یار دولتانہ۔دو اور ہیں جو میرے علم میں بڑے زمیندار نہیں مگر شاید انہیں بڑے زمینداروں میں شامل کیا جا سکتا ہو وہ سر فیروز خان اور میجر عاشق حسین ہیں اور ان کو بھی بڑے زمینداروں میں شامل کر لیا جائے تو یونینسٹ پارٹی جو کانگرس کی حلیف ہے اس کے ممبروں میں سے پچاس فیصد بڑے زمینداروں کے مقابلہ پر لیگ کے ۷۹ میں سے ۶ بڑے زمیندار صرف ساڑھے سات فیصدی ہوتے ہیں اور کیا یہ نسبت اس بات کا ثبوت کہلا سکتی ہے کہ کوئی پارٹی بڑے زمینداروں کی پارٹی ہے۔بڑے زمینداروں کا طعنہ مدت سے کانگرس کی طرف سے مسلمانوں کو دیا جاتا ہے حالانکہ بڑا خواہ زمیندار ہو یا تاجر اگر وہ بُرے معنوں میں بڑا ہے تو ہر شکل میں بُرا ہے لیکن اگر وہ اپنے حلقہ کا نمائندہ ہے تو جب تک ملک کا قانونِ انتخاب اُس کی دولت اس کے پاس رہنے دیتا ہے اور جب تک کہ اس کا حلقہ اس کا انتخاب کرتا ہے نمائندگی میں کسی دوسرے سے کم نہیں۔پنجاب میں گورنمنٹ رپورٹ کے