انوارالعلوم (جلد 18) — Page 275
انوارالعلوم جلد ۱۸ ۲۵ تحریک جدید کی اہمیت اور اس کے اغراض و مقاصد تیار ہو جائیں مگر باوجود ان تمام باتوں کے ابھی ایک طبقہ ایسا ہے جس کے دل میں دین کی اشاعت کے لئے وہ دُھن اور جنون نہیں جو صحابہ کے اندر پایا جاتا تھا۔دیکھو کا میابی حاصل کرنے کا ایک گر یہ ہوتا ہے کہ قوم کی اکثریت درست ہو جائے تو وہ اقلیت پر غالب آجایا کرتی ہے یہی وہ نکتہ ہے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اَصْحَابِي كَالنُّجُومِ بِآيَهُمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُم میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں تم ان میں سے جس کے پیچھے بھی چل پڑو تم ہدایت پا جاؤ گے۔اس حدیث میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کی اکثریت کو ہدایت یافتہ قرار دیا ہے اور بائھم میں اسی طرف اشارہ ہے ورنہ مسلمانوں میں بعض منافق بھی تھے اور اس کا خودا حادیث سے پتہ چلتا ہے مگر چونکہ کثرت ایسی تھی جس کی اصلاح ہو چکی تھی اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اقلیت کو نظر انداز کرتے ہوئے فرمایا اَصْحَابِی كَالنُّجُومِ بِآيَهُمُ اهْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُم میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں تم ان میں سے جس کے پیچھے بھی چلو گے تمہیں نظر آ جائے گا کہ وہ خدا کے ساتھ چل رہا ہے اس لئے ممکن ہی نہیں کہ تم گمراہ ہو جاؤ۔اصل بات یہ ہے کہ ہدایت خدا تعالیٰ سے ملتی ہے اور وہی شخص دوسروں کے لئے ہدایت کا موجب بن سکتا ہے جس کا خدا تعالیٰ سے ایسا مضبوط تعلق ہو کہ اسکی کوئی حرکت اور اس کا کوئی فعل اللہ تعالیٰ کے منشاء اور اس کے احکام کے خلاف نہ ہو۔پس چونکہ قطعی ہدایت اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اس لئے دوسروں کے لئے بھی ہدایت کا موجب وہی شخص ہو سکتا ہے جو خدا تعالیٰ کے ساتھ چل رہا ہو اور جس کی نگاہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی طرف ہی اُٹھتی ہو۔اور چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ خدا تعالیٰ کے پیچھے چل رہے تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو اچھی طرح جانتے تھے کہ میرے صحابہ اللہ تعالیٰ سے کیسا مضبوط تعلق رکھتے ہیں اس لئے آپ نے فرمایا میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں ان کی اکثریت ہدایت پر قائم ہے اس لئے تم ان میں سے جس شخص کے پیچھے پیچھے بھی چلو گے ہدایت پا جاؤ گے کیونکہ وہ خدا کے پیچھے چل رہا ہے یہ جماعت ہے جو جیتا کرتی ہے اور ایسی ہی جماعت کی ہمیں ضرورت ہے جب تک اس قسم کی جماعت پیدا نہ ہواس وقت تک خواہ دس ہزار عالم روزانہ پانچ پانچ سات سات تقریر میں کرتے رہیں دنیا میں کوئی تغیر