انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 155 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 155

انوار العلوم جلد ۱۸ قرآن کریم پڑھنے پڑھانے کے متعلق تاکید پیدا کر دیا ہے اور آپ کے جذبات میں ہیجان پیدا کر دیا ہے اور آپ میں غور کرنے کی عادت پیدا ہوگئی ہے اور آپ کے اندر ایسا تقویٰ پیدا ہو گیا ہے جس سے آپ پر قرآن شریف کے معارف کھل جاتے ہیں تو آپ کی مثال اُس زمین کی سی ہوگی جو پانی پیتی ہے اور اس کے نتیجے میں پھل پھول نکالتی ہے۔پس آپ لوگ اس زمین کی طرح نہ ہوں جو پانی کے بدلے پانی نکال دیتی ہے بلکہ اُس زمین کی طرح ہوں جو پانی پی کر اس کے نتیجہ میں گھاس چارہ اور پھل اور پھول پیش کرتی ہے۔تو جب تک آپ میں یہ قابلیتیں پیدا نہ ہو جا ئیں کہ جو باتیں آپ مدرس سے سنتے ہیں ان کو بدل نہ ڈالیں اور چارے کی شکل میں ، پھل پھول کی شکل میں اور غلے کی شکل میں تبدیل کر کے پیش نہ کریں اُس وقت تک آپ پوری طرح اس حدیث کے مصداق نہیں ہو سکتے۔جو انسان بھی علم ایسی صورت میں حاصل کرتا ہے کہ اپنے اُستاد کی بتائی ہوئی باتوں کو اُسی شکل میں رہنے دیتا ہے وہ جہالت اور بے وقوفی کا مرتکب ہوتا ہے۔ہمارے ملک میں لطیفہ مشہور ہے کہ کسی بادشاہ نے اپنے بیٹے کو کسی عالم کے پاس بٹھایا جسے ہر قسم کے علوم ، علم نجوم اور علم ہیئت وغیرہ آتے تھے اور اُسے کہا کہ اس کو تمام علوم میں ماہر کر دو۔جب وہ علوم سیکھ چکا تو بادشاہ نے کہا میں اس کا علم نجوم میں امتحان لیتا ہوں۔اُس نے اپنی مٹھی میں انگوٹھی کا ایک نگینہ پکڑ لیا اور اپنے بیٹے سے پوچھا بتاؤ میرے ہاتھ میں کیا ہے؟ اُس نے حساب لگا کر کہا کہ آپ کے ہاتھ میں چکی کا پاٹ ہے۔بادشاہ اُس کے اُستاد پر بڑا نا راض ہوا اور کہا کہ تم نے میرے لڑکے کو کیا پڑھایا ہے؟ عالم نے کہا حضور میں نے جو پڑھایا ہے ٹھیک ہے میں نے اُسے ایسا طریقہ بتایا تھا جس سے پتہ لگ جائے کہ آپ کے ہاتھ میں کوئی پتھر کی چیز ہے سواُس نے یہ بات معلوم کر لی مگر میں آپ کے لڑکے کے دماغ میں بیٹھ نہیں سکتا تھا کہ اسے عقل بھی دیتا جاؤں ، آپ کے بیٹے کے دماغ میں اتنی عقل ہی نہیں کہ وہ معلوم کر سکے کہ مٹھی میں چکی کے پاٹ کا پتھر نہیں آ سکتا مٹھی میں تو نگینہ ہی آئے گا۔پس یہ نہ ہو کہ آپ لوگ اس قسم کی جہالت کے مرتکب ہوں اور جو علم یہاں سے لے کر جائیں اُسے اسی طرح لفظاً لفظاً دُہرانے لگ جائیں اور یہ نہ دیکھیں کہ دوسرا کس صورت میں اعتراض کر رہا ہے اور ہم جواب کیا دے رہے ہیں۔وہ آپ کے مقابل پر ایک نیا اعتراض پیش کر رہا ہے لیکن آپ ہیں کہ اُستاد کی بات ہی