انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 134

انوار العلوم جلد ۱۸ ۱۳۴ قرآن کریم پڑھنے پڑھانے کے متعلق تاکید مرکزی نظام میں مجھے پچھلے سال سے کرنی پڑیں۔میں نے محسوس کیا کہ صدر انجمن احمدیہ کے افسر یہ خیال کرتے ہیں کہ اُنہوں نے کبھی بھی اس دنیا سے گزرنہیں جانا اور اُن کا خیال ہے کہ قیامت کے بوریے وہی سمیٹیں گے اور اُن کے قائم مقاموں کی جماعت کو کوئی ضرورت نہیں۔جب میں نے دیکھا کہ بڑھاپے کے آثار اُن میں پیدا ہو رہے ہیں ، جب میں نے دیکھا کہ اُن کی قو تیں مضمحل ہو رہی ہیں اور جب میں نے دیکھا کہ وہ بات کو جلدی سے فوری طور پر سمجھنے کی قابلیتیں کھو رہے ہیں اور عنقریب ایسا خلا پیدا ہونے والا ہے جس کا پُر کرنا ہمارے اختیار سے باہر ہو جائے گا تو میں نے خود اپنے اختیار سے باہر کا نوجوان عنصر اُن میں شامل کر دیا اور واقفین میں سے بھی کچھ نوجوان فارغ کر کے نائب ناظر اور معاون ناظر کر کے اُن کے ساتھ لگانے شروع کر دیئے جس کی وجہ سے نظارتوں کے کاموں میں تبدیلی پیدا ہونی شروع ہوگئی ہے۔مثلاً اس سال جو خطبہ جمعہ میں نے مولانا آزاد کے متعلق پڑھا تھا اُس کے متعلق میں نے دیکھا کہ وہ کام جو سابق نظارت میں شاید مہینوں تک بھی نہ ہوتا اور کچھ عرصہ کے بعد کہہ دیا جاتا اس کا خیال تو آیا تھا مگر کچھ مشکلات پیش آگئیں ، ان نوجوانوں نے مل کر میری تقریر اُسی وقت صاف کروا لی اور اِس کا انگریزی ترجمہ بھی کر دیا اور اُسی رات چھپوا کر دوسرے دن صبح ہی تمام ہندوستان میں پھیلا دیا۔اور ایک آدمی کے ذریعہ کچھ خطبات شملہ بھی بھیج دیئے۔یہ تبدیلی اس نو جوان خون کی وجہ سے ہوئی ہے جس کا انجمن کی بوڑھی رگوں میں داخل کرنے کا مجھے خدا تعالیٰ نے موقع دیا۔یہ تحریک بھی میں سمجھتا ہوں کہ اس تبدیلی کی ممنونِ احسان ہے۔نیا خون انسان کے لئے ایک ضروری چیز ہے۔خدا تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ انسان پہلے بوڑھا ہوتا ہے۔پھر اپنی طاقتیں کھوتا ہے اور پھر عمر طبعی کو پہنچ کر مر جاتا ہے اور اگر وقتا فوقتاً نیا عنصر اُس میں داخل کیا جائے تو وہ سلسلہ قائم رہتا ہے ورنہ نہیں۔بہر حال مجھے خوشی ہے گو خوشی ابھی مکمل نہیں ہوسکتی کیونکہ لاکھوں کی جماعت میں سے صرف ۷۰ ۸۰ آدمیوں کا قرآن شریف کا ترجمہ پڑھنے کے لئے آنا یہ ایک چھوٹا سا پیج تو کہلا سکتا ہے لیکن ایسا درخت نہیں کہلا سکتا جس کے سایہ کے نیچے لاکھوں انسان آرام کر سکیں۔مگر بہر حال بیجوں سے ہی روئیدگیاں پیدا ہوتی ہیں اور روئیدگیوں سے ہی تنے