انوارالعلوم (جلد 18) — Page 133
انوار العلوم جلد ۱۸ قرآن کریم پڑھنے پڑھانے کے متعلق تاکید نہ معلوم کون شخص کس طرز پر اور کس خیال میں پڑھتا چلا جاتا تھا میرے کانوں پر اس طرح گرے جیسے بیان کیا جاتا ہے کہ قیامت کے دن اسرافیل کا صور پھونکا جائے گا۔اِن الفاظ کا میرے کانوں میں پڑنا تھا کہ دنیا میری نگاہوں میں تاریک ہوگئی اور وہ چیزیں جن کو میں زندگی کا جز و سمجھتا تھا اب نہایت ہی بے ہنگم نظر آنے لگیں ، میں اُسی وقت مجلس سے اٹھا اور خدا تعالیٰ کے حضور توبہ کی اور اب آپ مجھے یہاں دیکھ رہے ہیں جہاں میں ہوں۔تو جس شخص پر سارے قرآن شریف نے اثر نہ کیا جب وقت آیا تو ایک آیت نے اُس کی حالت کو بالکل بدل دیا۔یہی وہ حکمت ہے جس کو نہ سمجھنے کی وجہ سے بہت سے لوگ ہدایت پانے سے محروم ہو جاتے ہیں اور بہت سے لوگ ہدایت دینے سے محروم ہو جاتے ہیں۔بہت سے لوگ اُس وقت جب کہ ایک شخص کے لئے ہدایت مقدر ہوتی ہے تھک کر اس کو چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے دس سال مغز ماری کی ہے مگر خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کے دل پر مہر لگی ہوئی ہے ہم اِس کا کیا کریں؟ اگر اُنہیں علم غیب ہوتا تو وہ یہ جانتے کہ یہ دس سال مُہروں کے دس سال تھے مگر اس سے اگلا منٹ جس وقت وہ اس کو چھوڑ کر چلے آئے وہی وقت تھا کہ خدا تعالیٰ کے فرشتے اس مُہر کو توڑنے کے لئے آ رہے تھے اور ہزار ہا انسان اسی لئے ہدایت سے محروم ہو جاتے ہیں کہ وہ ہدایت کی باتیں سنتے ہیں، پڑھتے ہیں ، اُن کے دل میں سچائی کو تلاش کرنے کی جستجو اور خواہش ہوتی ہے مگر ایک وقت گزر جانے کے بعد جب خدا تعالیٰ کی طرف سے اُن کے سینوں کو سچائی سے پر کرنے کا فیصلہ ہوتا ہے اور اُن کی مُہروں کو توڑنے کا وقت آتا ہے تو وہ اپنے گھروں میں بیٹھ جاتے اور کہتے ہیں ہم نے بہت غور کر لیا ہے اور بہت کچھ سمجھنے کی کوشش کی ہے شاید دنیا میں ہدایت ہے ہی نہیں یا ہدایت ہمارے لئے مقدر ہی نہیں اس لئے بچے مذہب کی جستجو کی خواہش فضول ہے اور وہ عین اُس وقت اپنے پاؤں کو لوٹا دیتے ہیں جس وقت منزلِ مقصود اُن کے قریب آ چکی ہوتی ہے۔تو میں سمجھتا ہوں کہ شاید خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک وقت مقدر تھا کہ جب اس تحریک کو ایسی شکل ملنی تھی جس کے ذریعے سے تمام باہر کی جماعتوں کے احمدی قرآن شریف سے واقفیت حاصل کر سکیں اور میں سمجھتا ہوں کہ اس تحریک میں نئی تبدیلیوں کا بھی اثر ہے جو قادیان کے