انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 112

انوار العلوم جلد ۱۸ ۱۱۲ اسلام کا اقتصادی نظام کمیونسٹ پارٹی میں رسوخ اور کام کی نوعیت کے مطابق تقسیم ہوتے ہیں ( یعنی اول درجہ کو اول درجہ کا کھانا۔دوسرے درجہ والے کو دوسرے درجہ کا کھانا اور اسی طرح آخر تک) (۳) یہ کہ ان امتیازی سلوکوں کے نتیجہ میں افراد کے درجوں کا فرق ویسا ہی نمایاں ہے جیسا که زار روس کے زمانہ میں تھا۔(۴) یہ کہ جہاں دوسرے ملکوں میں بلیک مارکیٹ چور تاجر چلاتے ہیں روس میں خود حکومت کی طرف سے عَلَی الْإِعْلان یہ مارکیٹ جاری ہے۔(۵) اس کا نتیجہ یہ ہے کہ بڑے عہدہ والے لوگ قریباً ہر چیز حاصل کر سکتے ہیں جب کہ عام کاریگر اپنی ضروریات زندگی سے محروم ہے۔آسٹریلین وزیر نے اس خبر کے شائع ہونے پر اظہار افسوس کیا ہے اور لکھا ہے کہ ہماری حکومت اور روس کے درمیان تعلقات خراب کرنے کی کوشش کی گئی ہے مگر اس خبر کا انکار نہیں کیا گیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ انکارسیاسی ہے حقیقی نہیں۔یہ خبر وضاحت سے اس اندازہ کی تصدیق کرتی ہے جو میں نے اپنے لیکچر میں سوویٹ کے مستقبل کے متعلق لگایا تھا کہ آئندہ ایک نیا طبقہ امراء کا پیدا ہونا ضروری ہے کیونکہ لیاقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔یہ ظاہر ہے کہ چونکہ اسلامی حد بندیاں اس ممتاز طبقہ کو حدود کے اندر رکھنے کے لئے کمیونزم میں موجود نہیں یہ طبقہ آخر کمیونسٹ حکومتوں کو پھر پُرانے اصول کی طرف لے جائے گا اور کمیونسٹ کی بغاوت کا صرف ایک ہی نتیجہ نکلے گا کہ روس کو اقوام عالم میں ایک نمایاں حیثیت حاصل ہو جائے گی اور امپیریلسٹک حکومتوں کی نفع اندوزی میں وہ بھی شریک ہو جائے گا اور ورلڈ پر الیٹریٹ یعنی دنیا کی حکومت عوام کا اصل ایک خواب کی شکل میں تبدیل ہو جائے گا ایسا خواب جو کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوا کیونکہ کمیونزم فلسفہ انسانی ہمدردی کے اصول پر نہیں بلکہ زار کی حکومت سے انتقام کے اصول پر مبنی ہے۔روسی سپاہیوں کا تمدنی معیار اس موقع پر ضمنا میں روسی سپاہیوں کے تمدنی معیار کے متعلق بھی کچھ کہنا چاہتا ہوں۔مجھے بتایا گیا ہے کہ ایران میں سے بنزائن کی ایک گاڑی گزر رہی تھی کہ ایک ڈرم میں سوراخ ہو گیا