انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 349 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 349

انوار العلوم جلد ۱۸ لوگ خدا تعالیٰ کے نزدیک زیادہ گنہگار ہیں۔دوسرے لوگوں کے متعلق تو یہ خیال کیا جا سکتا ہے کہ ان کا حافظہ کام نہیں کرتا تھا لیکن ان لوگوں کے دماغ تو روشن تھے اور حافظہ کام کرتا تھا تبھی تو انہوں نے ایسے علوم سیکھ لئے۔ایسے لوگوں سے اللہ تعالیٰ کہے گا کہ تمہیں دنیوی علوم کے لئے تو وقت اور حافظہ مل گیا لیکن میرے کلام کو سمجھنے کے لئے نہ تمہارے پاس وقت تھا اور نہ ہی تمہارے پاس حافظہ تھا۔ایک غریب آدمی کو تو دن میں دس بارہ گھنٹے اپنے پیٹ کے لئے بھی کام کرنا پڑتا ہے لیکن باوجود اس کے وہ قرآن پڑھنے کی کوشش کرتا ہے اور ایک امیر آدمی یا ایک ڈاکٹر جن کو چند گھنٹے کام کرنا پڑتا ہے ان کے لئے قرآن کریم پڑھنا کیا مشکل ہے۔یہ سب سستی اور غفلت کی علامت ہے اگر انسان کوشش کرے تو بہت جلد اللہ تعالیٰ اس کے لئے رستہ آسان کر دیتا ہے۔دوسری دنیا تو پہلے ہی دنیا کمانے میں منہمک ہے اور آخرت کی طرف آنکھ اُٹھا کر نہیں دیکھتے اگر ہماری جماعت بھی اسی طرح کرے تو کتنے افسوس کی بات ہوگی۔حقیقت یہ ہے کہ دنیا علم و ہنر اور دوسری ایجادوں میں تو ترقی کرتی جا رہی ہے لیکن چونکہ قرآن کریم سے دور جا رہی ہے اس لئے وہی چیزیں اس پر تباہی اور بربادی لا رہی ہیں۔جب تک لوگ قرآن کریم کی تعلیمات کو نہیں اپنا ئیں گے، جب تک قرآن کریم کو اپنا راہبر نہیں مانیں گے یہ اُس وقت تک چین کا سانس نہیں لے سکتے۔یہی دنیا کا مداوا ہے ہماری جماعت کو کوشش کرنی چاہئے کہ دنیا قرآن کریم کی خوبیوں سے واقف ہوا اور قرآن کریم کی تعلیم لوگوں کے سامنے بار بار آتی رہے تا کہ دنیا اس مامن کے سایہ تلے آ کر امن حاصل کرے۔۳۴۹ کوئی احمدی ایسا نہیں ہونا چاہئے جسے قرآن کریم باترجمہ نہ آتا ہو (الفضل ۳۰ / جون ۱۹۶۵ء)