انوارالعلوم (جلد 18) — Page 339
انوار العلوم جلد ۱۸ ۳۳۹ ہماری جماعت میں بکثرت حفاظ ہونے چاہئیں بدگمانی سے تو رائی کے بھی بنتے ہیں پہاڑ پر کے اک ریشہ سے ہو جاتی ہے کو وں کی قطارت جب بھی انسان کا قدم اصول سے ہٹتا ہے اس کا نتیجہ خراب ہوتا ہے۔بعض لوگ ہمیشہ پوچھتے رہتے ہیں کہ عید کے موقع پر قربانی کرنے کی بجائے اگر وہی رقم ہی چندہ میں دے دیں تو کیا حرج ہے؟ میں اُن کو یہی جواب دیا کرتا ہوں کہ جس دن تم نے یہ قدم اُٹھا یا تم سمجھ لو کہ تمہارا ایمان گیا۔جو دین کا حاکم ہے اُس کا کام ہے کہ وہ حکم کی شکل بتائے تمہارا کام نہیں کہ خود بخود اپنے لئے ایک نئی شاہراہ پیدا کر لو۔اگر ہر شخص خود بخو داپنے لئے کام تجویز کر لے تو دین کچھ کا کچھ بن جائے۔یہ محض اللہ تعالیٰ کا ہی حق ہے کہ وہ بتائے کہ تم نے نماز کس طرح پڑھنی ہے، روزہ کس طرح رکھنا ہے، حج کس طرح کرنا ہے، زکوۃ کس طرح دینی ہے، پھر جو کچھ وہ بتائے گا اسی میں برکت ہو سکتی ہے۔اگر ہم قیاس سے کام لینے لگیں گے تو دین کی شکل کچھ کی کچھ بن جائے گی۔ہمارے گھر میں چونکہ اکثر مستورات ملنے کے لئے آتی رہتی ہیں میں نے ہمیشہ دیکھا ہے کہ ان کی وجہ سے بعض دفعہ عجیب عجیب باتیں ظہور میں آتی ہیں۔ابھی تھوڑے دن ہوئے ایک دن کھانے میں بے انتہا نمک تھا۔میں سمجھتا ہوں جس قدر مقدار ہونی چاہئے تھی اُس سے دس ہیں گنا زیادہ تھا۔دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ نمک اس طرح زیادہ ہوا ہے کہ ایک عورت آئی اور اُس نے ہنڈیا پکتی دیکھی تو نمک ڈال دیا ، پھر دوسری آئی تو اس نے تھوڑا سا نمک ڈال دیا ، اسی طرح اور عورتیں آئیں اور نمک ڈالتی گئیں یہاں تک کہ نمک اِس قدر زیادہ ہو گیا کہ سالن کھانے کے ہی نا قابل ہو گیا۔پس یہ طریق بڑا ہی غلط ہوتا ہے کہ ہر شخص اپنی اپنی رائے اور اجتہاد سے کام لینے لگ جائے۔جب انسان ایک قدم جادۂ صداقت سے پیچھے ہٹاتا ہے تو پھر وہ پیچھے ہی جا پڑتا ہے۔آخر سوال یہ ہے کہ کیا سب سے مقدم کام وہ نہیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا ؟ جب سب سے مقدم کام وہی ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا تو جو شخص یہ کہتا ہے کہ صرف چندہ دینا ہی اصل چیز ہے وہ بد بخت دوسرے الفاظ میں یہ کہتا ہے کہ میں محمد رسول اللہ