انوارالعلوم (جلد 18) — Page 338
انوار العلوم جلد ۱۸ ۳۳۸ ہماری جماعت میں بکثرت حفاظ ہونے چاہئیں اگر شیطان کسی کو دھوکا دینا چاہے تو اس رنگ میں بھی دھوکا دے سکتا ہے کہ چندہ دے دینا ہی کافی ہے اس کی کیا ضرورت ہے کہ ہمارے بچے قرآن حفظ کریں وہ نہیں جانتے کہ چندہ مانگا جاتا ہے انسانوں پر خرچ کرنے کے لئے ، جب آدمی ہی نہیں ہوں گے تو خرچ کس پر ہوگا۔روپیہ یا سکولوں پر خرچ ہوگا یا سلسلہ کے دوسرے کاموں پر۔گورنمنٹ والی تنخواہیں تو نہیں دی جاسکتیں مگر بہر حال کچھ نہ کچھ تنخواہیں تو دینی پڑتی ہیں جن سے وہ گزارہ کر سکیں۔اگر سکول میں لڑکے نہ ہوں گے تو چندہ کہاں خرچ ہوگا یا اگر مبلغین نہ ہوں گے تو چندہ کہاں خرچ ہو گا یہ شیطانی وسوسہ ہے جو انسان کو بہت سی نیکیوں سے محروم کر دیتا ہے۔دو چار دن ہوئے میں نے اس کی مثال بھی سنائی تھی کہ ایک شخص جب نماز کی نیت کرتا تو کہتا ” چار رکعت نماز فرض پیچھے اس امام کے۔پھر وسوسہ اس کے دل میں بڑھنا شروع ہوا یہاں تک کہ وہ امام کو دھکے دیتا اور کہتا کہ پیچھے اس امام کے۔اگر اسی طرح وساوس بڑھتے چلے جائیں تو ان کی حد بندی ہی نہیں ہوسکتی۔پھر یہ وسوسہ پیدا ہونا شروع ہو جائے گا کہ ہم مختلف مواقع پر پندرہ پندرہ ، بیس بیس دن قا دیان جا کر رہتے ہیں اس کی بجائے کیوں نہ تجارت کرتے رہیں اور چندہ قادیان بھیج دیں۔ہم اگر گئے تو مفت روٹی کھا کر آجائیں گے۔پھر یہ وسوسہ پیدا ہوگا کہ ہم جلسہ سالانہ پر کیوں جاتے ہیں یو پی سی پی، بنگال، بہار اور حیدر آباد وغیرہ سے لوگ آتے ہیں اور فی کس پچاس ساٹھ بلکہ سو روپیہ آمد و رفت پر خرچ ہو جاتا ہے اور وہ بھی تھرڈ کلاس ہیں۔انٹر یا سیکنڈ کلاس میں دو تین سو روپیہ فی کس خرچ آتا ہے۔وقت الگ صرف ہوتا ہے اگر اس کی بجائے ہم روپیہ بھیج دیں تو وقت بھی بچ جائے گا اور تکلیف بھی نہیں ہوگی اور پھر پانچ چھ سو آدمی یو پی ، بہار اور بنگال وغیرہ کا جو جلسہ پر روٹی کھاتا ہے اس کا بوجھ بھی سلسلہ پر نہیں پڑے گا۔غرض اسی طرح وساوس بڑھتے چلے جائیں گے اور نتیجہ یہ ہوگا کہ آہستہ آہستہ دین سیکھنے کی کوشش مر جائے گی اور ہمارے جلسہ کا بھی وہی حال ہوگا جو عرسوں کا ہوتا ہے جہاں تماشہ دیکھنے والے عیاش طبع لوگ جمع ہو جاتے ہیں اور باقی لوگ اپنے گھروں میں بیٹھے رہتے ہیں۔غرض یہ بات یاد رکھو کہ وساوس انسان کو کہیں ورے نہیں رہنے دیتے بلکہ انتہائی حالت پہنچا دیتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اپنے اشعار میں لکھا ہے کہ