انوارالعلوم (جلد 18) — Page 7
انوار العلوم جلد ۱۸ اسلام کا اقتصادی نظام کی ترقی پر تبر رکھ دیتے ہیں اور ایسے قوانین بناتے ہیں جس سے آئندہ پیدا ہونے والی نسلیں اپنی طاقتوں کو کھو بیٹھتی ہیں اور ایسی تعلیمات جن کو سیکھ کر وہ ترقی کر سکتی ہیں اُن سے محروم رہ جاتی ہیں۔پھر فرماتا ہے والله لا يُحِبُّ الْفَسَادَ یعنی اللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں کرتا۔اس لئے ایسے بادشاہ اور حکمران خدا تعالیٰ کی نگاہ میں مغضوب ہیں اور وہ اُن کو سخت نفرت اور حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔اس آیت سے یہ نتیجہ نکل آیا کہ اسلام کے نزدیک وہی بادشاہ صحیح معنوں میں بادشاہ کہلا سکتا ہے جولوگوں کے لئے ہر قسم کا امن مہیا کرے، اُن کی اقتصادی حالت کو درست کرے اور اُن کی جانوں کی حفاظت کرے۔کیا بلحاظ صحت کا خیال رکھنے کے اور کیا بلحاظ اس کے کہ وہ غیر ضروری جنگیں نہ کرے اور اپنے ملک کے افراد کو بلا وجہ مرنے نہ دے۔گویا ہر قسم کے امن اور جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری اسلام کے نزدیک حکومت پر عائد ہوتی ہے اور وہ اس امر کی پابند ہے کہ ملک کی ترقی اور رعایا کی بہبودی کا ہمیشہ خیال رکھے۔حکام کو افراد و اقوام کے درمیان اسی طرح دوسری جگہ فرماتا ہے رات اللہ اسی دوسری جگہ يَا مُرُكُمْ أن تُؤَدُّوا الآمنتِ إِلَى أَهْلِهَا ، ر ل قائم کرنے کی تاکید وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا عد بالعدل، إنّ الله نيما يَعِظُكُم به إن الله كان سَمِيعًا بَصِيرًا ہے یعنی اے لوگو ! اللہ تعالیٰ تم کو حکم دیتا ہے کہ جب تمہیں موقع ملے کہ تم بادشاہت کی امانتیں کسی کے سپر د کرو تو یاد رکھو تم یہ امانتیں ہمیشہ اُن لوگوں کے سپرد کیا کرو جو تمہارے نزدیک بادشاہت اور حکومت کے اہل ہوں اور جن کے اندر یہ قابلیت پائی جاتی ہو کہ وہ حکومتی کا موں کو عمدگی سے سرانجام دے سکیں اور پھر اے وہ لوگو! جن کے سپر د ملک کے لوگ بادشاہت کی امانت کریں (جہاں ہم نے ملک کے لوگوں کو یہ حکم دیا ہے کہ تم حکومت کے لئے ایسے ہی لوگوں کا انتخاب کرو جو اس امانت کے سنبھالنے کے اہل ہوں جو ملک کے بہترین راہنما ہوں اور جو رعایا کے لئے ہر قسم کی ترقی کے سامان جمع کرنے کے قابل ہوں ) وہاں تم لوگوں کو جن کا حکومت کے لئے انتخاب کیا گیا ہے اور جن پر اعتماد کر کے ملک کے لوگوں نے حکومت کی امانت اُن کے سپرد کی ہم یہ حکم دیتے ہیں