انوارالعلوم (جلد 18) — Page 8
انوار العلوم جلد ۱۸ اسلام کا اقتصادی نظام که إذا حكَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ أَن تَحْكُمُوا بالعدل یعنی جب تم کوئی فیصلہ کرو تو عدل سے کام لو۔یہ نہ ہو کہ کسی فرد کو بڑھا دو اور کسی کو نیچے گرا دو، کسی قوم کو اونچا کر دو اور کسی قوم کو نیچا کر دوں کسی قوم میں تعلیم پھیلا دو اور کسی قوم کو جاہل رکھو، کسی کی اقتصادی ضروریات کو پورا کرو اور کسی کی اقتصادی ضروریات کو نظر انداز کرد و بلکہ جب تم لوگوں کے حقوق کا فیصلہ کرو تو ہمیشہ عدل وانصاف سے فیصلہ کرو۔رعایت یا بے جا طرف داری سے کام نہ لو۔پھر فرماتا ہے إن الله نعما يعظكم یہ ہمارا یہ حکم ایسا نہیں جیسے بادشاہ بعض دفعہ بغیر کسی خاص مقصد یا بغیر کسی خاص حکمت کے کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہمارا منشاء یوں ہے بس اسی طرح کیا جائے۔ہم ان بادشاہوں کی طرح بغیر سوچے سمجھے یہ حکم نہیں دے رہے بلکہ ہم تمہارے خالق و مالک خدا ہیں اور ہم تمہیں جو کچھ حکم دے رہے ہیں اسی میں تمہارا فائدہ اور تمہارا سکھ ہے۔اگر تم ایسے حاکم مقرر کرو گے جو اچھے ہوں گے ، جو حکومت کے فرائض کو صحیح طور پر ادا کرنے والے ہوں گے، جو اس امانت کی قدرو قیمت کو سمجھتے ہونگے تو اس میں تمہارا اپنا فائدہ ہے اور اے حاکمو! اگر تم لوگوں کی جانوں کی حفاظت کرو گے ، اگر تم ان کے اموال کی حفاظت کرو گے ، اگر تم اپنے فیصلوں میں ہمیشہ عدل کو ملحوظ رکھو گے ، اگر تم افراد اور اقوام میں تفریق سے کام نہیں لو گے ، اگر تم چھوٹوں اور بڑوں سب سے یکساں سلوک کرو گے ، اگر تم ملک کی مجموعی حالت کو درست رکھنے کی ہمیشہ کوشش کرو گے، اگر تم ان بادشاہوں کے نقش قدم پر نہیں چلو گے جو کسی کو بڑھا دیتے ہیں اور کسی کو گرا دیتے ہیں اور کسی کو نا واجب سزا دے دیتے ہیں اور کسی کی نا واجب رعایت کر دیتے ہیں تو تم صرف ہمارا حکم ہی پورا نہیں کرو گے بلکہ انجام کے لحاظ سے یہ امر خود تمہارے لئے بھی بہتر ہوگا۔پھر فرماتا ہے ان الله كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا یعنی اللہ تعالیٰ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔اللہ تعالیٰ نے دیکھا کہ لوگ دنیا کے ظالم بادشاہوں کی ایڑیوں کے نیچے کچلے گئے اور وہ تباہ و برباد کئے گئے۔بادشاہوں نے اُن پر ظلم کیا اور ان کے حقوق کو انتہائی بیدردی کے ساتھ پامال کر دیا۔یہ حالات خدا نے دیکھے اور اُس کی غیرت نے برداشت نہ کیا کہ بنی نوع انسان ہمیشہ فلموں کے نیچے دبتے چلے جائیں اور حکام اپنی من مانی کارروائیاں کرتے رہیں پس اُس نے چاہا کہ اس بارہ میں خود ہدایات دے۔چنانچہ جب ظلم اپنی انتہا تک پہنچ گیا اور لوگوں نے