انوارالعلوم (جلد 18) — Page 100
انوار العلوم جلد ۱۸ اسلام کا اقتصادی نظام کئے ہوئے ہیں مگر وہ یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ امریکہ روس کا جزو بن جائے اور وہ اُس کی سیاسی حکومت میں شامل ہو جائے۔میں ہندوستان کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا کہ یہاں کے کمیونسٹ کیا رائے رکھتے ہیں کیونکہ ہمارے ہندوستانی کمیونسٹ عام طور پر سوچنے کے عادی نہیں ہوتے اور زیادہ تر کم علم طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔وہ نعرے لگانے کے عادی تو ہیں مگر ان نعروں کی حقیقت کو ان میں سے بہت کم طبقہ سمجھتا ہے باقی لوگ جذبات کی رو میں بہہ کر عقل و فکر کو جواب دے دیتے ہیں۔ممکن ہے ہندوستان کے نوے فیصدی کمیونسٹ یہی چاہتے ہوں کہ بیشک ہندوستان کو روس میں ملا دیا جائے انہیں کوئی اعتراض نہیں ہو گا لیکن باقی دنیا کے کمیونسٹ ایسا نہیں کہتے اور ایسا نہیں کہہ سکتے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ بات اُن کی تباہی اور بربادی کا موجب ہوگی۔پھر یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ ایشیائی مقبوضات روسی مقبوضات میں عدم مساوات اس امر کے شاہد ہیں کہ یورپین لوگوں کی حالت اور اُن کی حالت میں بہت بڑا فرق ہے۔میں تمام خرچ برداشت کرنے کیلئے تیار ہوں کمیونسٹ پارٹی بیشک میرا آدمی اپنے ساتھ لے اور وہ اُسے بخارا اور ماسکو وغیرہ میں لے جائے اور پھر ثابت کرے کہ بخارا کے غرباء کو بھی وہی کچھ ملتا ہے جو ماسکو کے غرباء کو ملتا ہے یا بخارا کے لوگوں کے لباس اور مکان اور تعلیم وغیرہ کا اُسی طرح انتظام کیا جاتا ہے جس طرح ماسکو کے لوگوں کے لباس اور مکان اور تعلیم کا انتظام کیا جاتا ہے۔یقیناً حالات کا جائزہ لینے پر یہی معلوم ہوگا کہ ماسکو میں اور طریق رائج ہے اور بخارا وغیرہ میں اور طریق رائج ہے۔یہی حال دوسرے روسی ایشیائی مقبوضات کا ہے۔کسی اور ثبوت کی کیا ضرورت ہے ابھی دو ہفتے ہوئے روسی حکومت کی طرف سے ایشیائی مقبوضات کے متعلق یہ اعلان کیا گیا تھا کہ ان علاقوں کے حالات کی درستی کے لئے بھی اب سکیمیں تیار کی جارہی ہیں اور آئندہ ان کی ترقی کے متعلق بھی ایک خاص پروگرام بنایا جائے گا۔یہ اعلان ان لوگوں کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے جو اس غلط فہمی میں مبتلا رہتے ہیں کہ جیسا سلوک روس اپنے ملک کے باشندوں سے کرتا ہے ویسا ہی سلوک وہ ایشیائی مقبوضات کے باشندوں سے بھی کرتا ہے۔اگر ایسا ہوتا تو یورپی روس اور