انوارالعلوم (جلد 18) — Page 101
انوار العلوم جلد ۱۸ 1+1 اسلام کا اقتصادی نظام ایشیائی روس میں ایک ساتھ اور ایک ہی قسم کی اقتصادی اصلاحات عمل میں لائی جاتیں اور دونوں ملک ایک ہی وقت میں ایک سے معیار ترقی پر پہنچ جاتے مگر ایسا نہیں ہوا۔پس یہ خیال واقعات کے بالکل خلاف ہے۔ان علاقوں میں ابھی غرباء موجود ہیں ، ان علاقوں میں ابھی مفلوک الحال لوگ موجود ہیں مگر روسی ان کے ساتھ وہ سلوک نہیں کرتے جو اپنے ملک کے غرباء سے یا یورپین طبقہ سے کرتے ہیں اور ان دونوں کی حالت میں بہت بڑا فرق پایا جاتا ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ کمیونزم کی بنیاد ہی مساوات پر ہے وہ ایسا نہیں کرے گی کہ اپنے ملک کی طاقت بڑھانے کے لئے دوسروں کے حقوق پر چھاپہ مارنے لگے۔مگر یہ بھی محض وہم ہے اور عصمت بی بی از بے چارگی والی بات ہے۔جب تک کمیونزم صنعتی پیداوار کی کمی کی بہ سے بیرونی ملکوں یا اُن کی دولت کی ضرورت نہیں سمجھتی اُس وقت تک اُس کا یہ حال ہے لیکن جب یہ مجبوری دور ہوئی تو وہ دوسروں سے زیادہ غیر ممالک کو لوٹنے اور اُن کی اقتصادی حالت کو تباہ و برباد کرنے کی کوشش کرے گی۔چنانچہ اس کا ثبوت یہ ہے کہ جب تک سیاستا روس کا اپنے مُلک میں اُلجھاؤ تھا جار جیا بھی آزاد تھا، فن لینڈ بھی آزاد تھا، لٹویا بھی آزاد تھا، لیتھونیا بھی آزاد تھا ، استھو نیا بھی آزاد تھا اور روس یہ کہا کرتا تھا کہ ہمارے نظام کی یہ خوبی ہے کہ وہ ے ملکوں سے اُلجھاؤ نہیں کرتا۔ہم تو حریت ضمیر کے قائل ہیں ہم نے ان تمام ممالک کو آزاد کر دیا ہے جو ہم سے آزاد ہونا چاہتے تھے ہم نے لٹویا، لیتھونیا ، استھو نیا ، فن لینڈ ، پولینڈ ، جار جیا وغیرہ ممالک کو آزاد کر دیا ہے ، ترکوں کو آرمینیا کا وہ علاقہ جو اُن سے متعلق ہے دے دیا ہے مگر جوں ہی روس کے اندرونی جھگڑے کم ہوئے جار جیا کو روس میں شامل کر لیا گیا۔جب اور طاقت آئی تو فن لینڈ سے سرحدوں کی بحث شروع کر دی اور طاقت پکڑی تو لٹویا ، لیتھونیا اور استھونیا کو اپنے اندر شامل کر لیا۔رومانیہ کے بعض علاقوں کو ہتھیا لیا پھر فن لینڈ کو مغلوب کر کے اُس کے کچھ علاقے لے لئے اور باقی ملک کی آزادی کو محدود کر دیا۔اب پولینڈ کا کچھ حصہ لیا جا رہا ہے باقی کی آزادی محدود کی جارہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ روسی سرحدوں پر وہی حکومت رہ سکتی ہے جو روسی حکومت سے تعاون کرے اور اس اصل کے ماتحت پولینڈ، زیکوسلواکیہ اور رومانیہ کے اندرونی معاملات میں دخل دیا جا رہا ہے۔ایران کے چشموں پر قبضہ دوسر۔