انوارالعلوم (جلد 18) — Page 82
انوارالعلوم جلد ۱۸ ۸۲ اسلام کا اقتصادی نظام کے لئے امراء سے زمین نہ خرید سکتے تھے اور آخر لمبے مقاطعہ کی صورت میں زمینوں کی خرید وفروخت کا طریق جاری ہوا لیکن پھر بھی بہت سے قصبات کی عمارتیں بڑے زمینداروں کے قبضہ میں ہیں جو لوگوں کو کرایہ پر دے کر اپنا تصرف لوگوں پر قائم رکھتے ہیں۔فرانس میں بھی اور جرمنی اور آسٹریا میں بھی ایک حد تک ایسا ہی ہوا۔اٹلی میں بھی ایک لمبے عرصہ تک یہی حال رہا اور نپولین کی جنگوں کے بعد کسی قدر اصلاح ہوئی۔یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ کی ترقی میں بھی بڑے زمینداروں کی ایک جماعت اسی طرح پیدا ہوگئی کہ پرانے باشندوں کی زمین کے جتنے وسیع رقبہ پر کوئی قبضہ کر سکا اس نے قبضہ کر لیا۔آسٹریا میں بھی ایسا ہوا اور کینیا کالونی میں بھی اسی طرح ہوا کہ بعض انگریزوں نے لاکھ لاکھ ایکڑ پر قبضہ کرلیا اور پرانے باشندوں کو محروم کر دیا۔مفتوحہ علاقہ کی زمین پر قبضہ کرنے اس کے مقابل پر اسلامی فتوحات میں عرب میں تو فاتحین کو افتادہ زمینوں میں کے متعلق اسلام کا بہترین نمونہ سے کچھ حصہ دیا گیا کیونکہ عرب میں تو زمین ہی کم ہے اس سے وہ ناجائز طور پر بڑے زمیندار نہیں ہو سکتے تھے لیکن یمن اور شام میں جو پرانے زمیندار تھے اُن ہی کے پاس زمین رہنے دی گئی۔عراق کا علاقہ چونکہ غیر آباد تھا اور ایرانی اسلام کی فتح پر اس علاقہ کو چھوڑ گئے تھے اور یہ علاقہ دو دریاؤں کے درمیان ہے اس لئے وہاں بہت سی اُفتادہ زمین مسلمانوں کو ملی مگر با وجود اس کے کہ لشکر اسلام کے بعض جرنیلوں نے اس وقت کے عام دستور کے مطابق اس زمین کو جو افتادہ اور سرکاری تھی فاتحین میں بانٹنے کی کوشش کی۔حضرت عمر نے اس بناء پر تقسیم کرنے سے انکار کیا کہ اس سے آئندہ نسلوں اور عامۃ الناس مسلمانوں کو نقصان ہوگا اور اُسے گورنمنٹ کی ملکیت ہی رہنے دیا گیا۔اسی طرح مصر میں بھی زمین وہاں کے سابق باشندوں کے پاس رہنے دی گئی۔غرض اسلامی نظام کی جو تعبیر ابتدائے اسلام میں کی گئی اس میں یہ امرتسلیم کر لیا گیا کہ اُفتادہ زمین کو بجائے امراء میں بانٹ دینے اور بڑے بڑے زمینداروں کی جماعت تیار کرنے کے جیسا کہ یورپین نظام کے ماتحت ہوا ہے حکومت کے قبضہ میں رکھنا چاہئے تا کہ آئندہ نسل اور آبادی کی ترقی پر سب ملک کی ضرورت کا انتظام ہو سکے جس کی وجہ سے اسلامی نظام کے ماتحت بڑی زمینداریوں کا