انوارالعلوم (جلد 18) — Page 46
انوارالعلوم جلد ۱۸ ۴۶ اسلام کا اقتصادی نظام اسلامی تعلیم کے ماتحت جائز نہیں ہے اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم مال اور دولت کی وجہ سے نہیں بلکہ اہلیت اور قابلیت کی بناء پر لوگوں کے سپر د حکومتی کا م کیا کرو۔پس جولوگ مال و دولت اس لئے جمع کرتے ہیں کہ اس کی وجہ سے ہمیں حکومت میں حصہ مل جائے گا یا بڑے بڑے عہدے ہمیں حاصل ہو جائیں گے اسلام اُن کے اِس نفع کو بھی نا جائز قرار دیتا ہے اور امت مسلمہ کو یہ حکم دیتا ہے کہ وہ حکام کے انتخاب کے وقت اہلیت کو مد نظر رکھا کریں۔یہ نہیں ہونا چاہئے کہ دولت و ثروت کی وجہ سے کسی کو سیاسی اقتدار سونپ دیا جائے۔روپیہ جمع کرنے کی حرص پھر بعض لوگ دنیا میں ایسے بھی ہوتے ہیں جو بہت سا روپیہ اپنے پاس جمع کر لیتے ہیں۔اسلام نے اپنے متبعین کو روپیہ جمع کرنے سے بھی روک دیا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے۔وَالَّذِينَ يَعْنِزُونَ الذَّهَبَ والفِضَّةٌ وَلَا يُنْفِقُونَهَا في سَبِيلِ اللهِ : فَبَشِّرُهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ يَوْمَ يُحْمَى عَلَيْهَا في نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوى بهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَ ظُهُورُهُمْ هَذَا مَا كَنَزْتُمْ لِأَنْفُسِكُمْ فَذُوقُوا مَا كُنتُمْ تَكْنِزُونَ ۲۲ فرماتا ہے وہ لوگ جو سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت اُس کو خرچ نہیں کرتے ہم اُن کو ایک دردناک عذاب کی خبر دیتے ہیں۔جب سونا اور چاندی جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا اور انہیں گلا کر اُن کے ہاتھوں اور اُن کے پہلوؤں اور اُن کی پیٹھوں پر داغ دیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ وہ خزانے ہیں جو تم نے اپنے لئے اور اپنے خاندان کی ترقی کے لئے روک رکھے تھے اور خدا تعالیٰ کے بندوں کو تم نے اُن سے محروم کر دیا تھا۔فَذُوقُوا مَا كُنتُمْ تَكْنزون پس چونکہ لوگوں نے اس سونے اور چاندی سے فائدہ نہیں اُٹھایا بلکہ تم نے اُسے صرف اپنے لئے جمع کر رکھا تھا اس لئے آج ہم یہ سونا اور چاندی تمہاری طرف ہی واپس لوٹاتے ہیں۔مگر اُس جہان میں چونکہ سونا اور چاندی کسی کام نہیں آ سکتے اس لئے ہم اس رنگ میں یہ سونا اور چاندی تمہیں دیتے ہیں کہ ان کو پگھلا پگھلا کر تمہارے ہاتھوں اور پہلوؤں اور پیٹھوں پر داغ دینگے تاکہ تمہیں معلوم ہو کہ سونے اور چاندی کو روک رکھنا اور بنی نوع انسان کی بہتری کے لئے اُسے صرف نہ کرنا کتنا بڑا گناہ تھا۔گو یہ مثال جو میں نے دی