انوارالعلوم (جلد 18) — Page 620
انوار العلوم جلد ۱۸ ۶۲۰ ایک آیت کی پُر معارف تفسیر صلى الله کے الفاظ آئے ہیں اس کے لئے یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ ہر مضمون کا تعلق پہلے مضمون کے ساتھ ہوتا ہے اب ہم سارے مضمون کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کرھون کا تعلق اخرجت کے ساتھ ہے کیونکہ آخر جت میں کم کی ضمیر نہیں بلکہ گ کی ضمیر ہے اس لئے كرِهُونَ کو آخرجك کے ساتھ چسپاں کیا جائے گا اور یہ اس طرح بن جائے گاكْرِهُونَ عَلَى خُرُو جگ۔یہ ایک قدرتی بات ہے کہ جہاں عشق ہوتا ہے وہاں کوئی شخص بھی نہیں چاہتا کہ میرے محبوب کو کوئی تکلیف پہنچے اور کوئی بھی یہ پسند نہیں کرتا کہ اس کا محبوب لڑائی میں جائے بلکہ ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے کہ محبوب لڑائی سے بچ جائے۔اسی طرح صحابہ بھی اس بات کو پسند نہیں کرتے تھے کہ آپ لڑائی پر جائیں۔صحابہ اس بات کو نا پسند نہیں کرتے کہ ہم لڑائی پر کیوں جائیں بلکہ ان کو رسول کریم ﷺ کا لڑائی پر جانا نا پسند تھا اور یہ ان کی طبعی خواہش تھی جو ہر محب کو اپنے محبوب کے ساتھ ہوتی ہے۔اس کے علاوہ ہم دیکھتے ہیں کہ تاریخ سے اس بات کا کافی ثبوت ملتا ہے کہ جب رسول کریم نے بدر کے قریب پہنچے تو آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے کہ ہمارا مقابلہ قافلہ سے نہیں بلکہ فوج کے ساتھ ہوگا۔پھر آپ نے ان سے مشورہ لیا اور فرمایا کہ بتاؤ تمہاری کیا صلاح ہے؟ جب اکا برصحابہ نے آپ کی یہ بات سنی تو انہوں نے باری باری اُٹھ اُٹھ کر نہایت جان نثارانہ تقریریں کیں اور عرض کیا ہم ہر خدمت کے لئے حاضر ہیں۔ایک اٹھتا ہے اور تقریر کر کے بیٹھ جاتا۔پھر دوسرا اُٹھتا اور مشورہ دے کر بیٹھ جاتا غرض جتنے بھی اُٹھے انہوں نے یہی کہا کہ اگر ہمارا خدا ہمیں حکم دیتا ہے تو ہم ضرور لڑیں گے مگر جب کوئی مشورہ دے کر بیٹھ جاتا تو رسول کریم ﷺ فرماتے مجھے مشورہ دو اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ابھی تک جتنے صحابہ نے اُٹھ اُٹھ کر تقریریں کی تھیں اور مشورے دیئے تھے وہ سب مہاجرین میں سے تھے مگر جب آپ نے بار بار یہی فرمایا کہ مجھے مشورہ دیا جائے تو سعد بن معاد رئیس اوس نے آپ کا منشاء سمجھا اور انصار کی طرف سے کھڑے ہو کر عرض کیا کہ يَا رَسُولَ اللهِ! آپ کی خدمت میں مشورہ تو عرض کیا جا رہا ہے مگر آپ پھر بھی یہی فرماتے ہیں کہ مجھے مشورہ دو۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ انصار کی رائے پوچھنا چاہتے ہیں اس وقت تک اگر ہم خاموش تھے تو صرف اس لئے کہ اگر ہم لڑنے کی تائید کریں گے تو شاید مہاجرین یہ سمجھیں کہ یہ