انوارالعلوم (جلد 18) — Page 514
انوارالعلوم جلد ۱۸ ۵۱۴ خدا تعالیٰ دنیا کی ہدایت کیلئے ہمیشہ نبی مبعوث فرماتا ہے چکے تھے لوگوں نے بہتیرا زور لگایا کہ آپ اپنے عقیدہ کو بدل لیں مگر وہ نہ مانے کیونکہ ان پر صداقت کھل چکی تھی۔آخر بادشاہ نے اُن کو زمین میں گاڑ کر سنگسار کرا دیا اور نہایت بے رحمی سے شہید کیا مگر انہوں نے اُف تک نہ کی اور خدا کی راہ میں اپنی جان دے دی۔سنگساری سے پہلے ایک وزیر اُن کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ تم اپنے دل میں بے شک وہی عقائد رکھو مگر صرف زبان سے ہی انکار کر دو مگر انہوں نے فرمایا میں جھوٹ نہیں بول سکتا پس اُن کو شہید کر دیا گیا مگر ان کے شہید ہونے کے تھوڑے عرصہ بعد ہی افغانستان میں ہیضہ پھوٹا اور ہزاروں لوگ مر گئے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جب لوگوں نے مقابلہ کیا تو آپ کو اللہ تعالیٰ نے دکھایا کہ ملک میں سخت طاعون پھوٹے گی چنانچہ ایسا ہی ہوا اور لوگ ہزاروں کی تعداد میں اس کا لقمہ بن گئے مگر اس طاعون کے وقت بھی باوجود یکہ طاعون کا پھوٹنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کی تائید میں تھا آپ نے مجسم رحم بن کر خدا کے حضور اس عذاب کو ٹلانے کے لئے نہایت گڑ گڑا کر دعائیں کیں اور اس قدر گریہ وزاری کی کہ مولوی عبد الکریم صاحب جو مسجد مبارک کے اوپر کے حصہ میں رہتے تھے فرماتے تھے کہ ایک دن مجھے کسی کے رونے کی آواز آئی اور وہ آواز اتنی دردناک تھی جیسے کوئی عورت درد زہ کی تکلیف میں مبتلا ہو۔میں نے کان لگا کر سنا تو معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام رو رو کر خدا کے حضور میں دعا فرما رہے ہیں کے اے اللہ ! اگر تیرے سارے بندے مر گئے تو مجھ پر ایمان کون لائے گا۔یہ چیز بھی آپ کی صداقت کیلئے نہایت زبر دست دلیل ہے یہ آپ ہی کی تائید کیلئے اللہ تعالیٰ نے طاعون بھیجی اور آپ کے دل میں ہی رحم آ گیا اور دعائیں کرنا شروع کر دیں۔فاطر ۲۵ تذکرہ صفحه ۱۰۴۔ایڈیشن چہارم ے تذکرہ صفحه ۳۱۲۔ایڈیشن چہارم الفضل ٢٣ / مارچ ۱۹۶۱ ء