انوارالعلوم (جلد 18) — Page 501
انوارالعلوم جلد ۱۸ ۵۰۱ زمین کی عمر قول ہے اور سائنس خدا تعالیٰ کا فعل ہے ان دونوں میں تضاد نہیں ہوسکتا۔مثلاً اب ڈاکٹر صاحب نے بیان کیا ہے کہ ہم تحقیقات کرتے کرتے یہاں تک پہنچے ہیں کہ دنیا کی عمر میں ارب ہے ہمیں اس میں اللہ تعالیٰ کے قول و فعل میں کوئی تضاد نظر نہیں آتا لیکن اگر کوئی مقام ایسا آ جائے جہاں یہ معلوم ہو کہ خدا تعالیٰ کے قول سے اس کا فعل متضاد ہے تو ہم یہی سمجھیں گے کہ یا ہم مذہب والوں نے سمجھنے میں غلطی کھائی ہے یا سائنس والوں نے غلطی کھائی ہے اور نئی تحقیق یا نیا الہام اس پر روشنی ڈال کر اس اُلجھن کو دُور کر دے گا۔دوسرے ہمارے لئے یہ بھی ضروری نہیں کہ ہم سائنس کی ہر تھیوری کو صحیح مان لیں۔مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ میں لا ہور گیا تھا اب یہ بات تو ظاہر ہے کہ وہ لا ہور جا سکتا تھا لیکن یہ ضروری تو نہیں کہ وہ لا ہور گیا ہو ممکن ہے کہ وہ لاہور نہ گیا ہو اور جھوٹ بول رہا ہو۔پس اس کے یہ کہہ دینے سے کہ میں لاہور گیا تھا یہ لازم نہیں آتا کہ ہم اس کی بات ضرور مان لیں۔اسی طرح سائنس کی بہت سی باتیں تھیوریاں ہوتی ہیں۔یعنی عقلی نظریات سے زیادہ نہیں ہوتیں۔اس کا عقلاً ممکن ہونا بے شک ثابت ہو لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ حقیقتاً واقعات بھی اسی طرح گزرے ہیں۔پس جو بات مذہب کے خلاف ہو اور دلائل عقلیہ سے اُس کا امکان ثابت ہو ہم اس کے متعلق یہ کہنے کا حق رکھتے ہوں کہ یہ بات ہم اس وقت تک ماننے کے لئے تیار نہیں جب تک قطعیت الدلالت امور سے ثابت ہو یا مذہب اس کی تائید کرے۔الغرض دنیا کی عمر تین کروڑ سال ہو یا تین ارب سال ہو وہ مذہب کے پیش کردہ نقطہ نگاہ کے خلاف نہیں کیونکہ ہم یہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی صفت خالقیت محدود نہیں۔اللہ تعالیٰ ازلی ابدی ہے اور وہ ہمیشہ سے خالق ہے اور ایک ایسے عرصہ سے اسی کی صفت خالقیت کام کر رہی ہے جس کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔اگر ہم یہ بھی کہیں کہ دنیا میں ارب سال سے ہے تو اس سے اللہ تعالیٰ کی صفت خالقیت محدود ہو جاتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ہمیں ارب سال ازل کے مقابلہ میں اتنی بھی حیثیت نہیں رکھتے جتنی سمندر کے مقابلہ میں ایک قطرہ۔پس اگر اللہ تعالیٰ کی صفت خالقیت ازل سے کام کر رہی ہے تو تم دنیا کی پیدائش کی تاریخ معلوم نہیں کر سکتے کیونکہ یہ اتنے لمبے حساب کی چیز ہے کہ یہاں اربوں اور کھربوں کا تو سوال ہی نہیں اگر ایک حساب دان