انوارالعلوم (جلد 18) — Page 498
انوار العلوم جلد ۱۸ ۴۹۸ زمین کی عمر لحاظ سے ان دونوں عمروں میں کوئی ٹکراؤ پیدا نہیں ہوتا۔ہم جو دنیا کی عمر چھ ہزار سال کہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہمارا وہ آدم جس سے ہماری تہذیب و تمدن کی ابتداء ہوئی اس پر چھ ہزار سال گزرے ہیں ورنہ ہمارا اس سے یہ مطلب نہیں ہوتا کہ ہمارے اس آدم سے پہلے کوئی آدم نہیں تھا۔اس کی مثال تم یوں سمجھو کہ لوگ کہتے ہیں کہ فلاں وقت میں ہمارا پر دادا ہندوستان میں آیا تو کیا اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ پڑدادا سے پہلے اس کے باپ دادا کوئی نہ تھے؟ اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ تاریخی شخص فلاں وقت میں ہندوستان میں آیا ورنہ اس کا خاندان تو پہلے سے موجود تھا۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ آدم جس کا قرآن کریم میں ذکر ہے وہ انسانی ابتدا والا آدم نہیں بلکہ وہ اس تہذیب و تمدن کی ابتدا کرنے والا ہے جو ہوتے ہوتے چھ ہزار سال میں ہم تک پہنچی۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مخلوق جس میں آدم مبعوث کیا گیا ترقی یافتہ نہ تھی ، اس میں تہذیب و تمدن نام کو نہ تھا، وہ جن تھے غاروں میں رہتے تھے اور سطح زمین پر گاؤں بنا کر نہیں رہتے تھے اور ابھی انسانی دماغ کا ارتقاء ایسا نہیں ہوا تھا کہ وہ سوسائٹی بنا ئیں اور اپنے اندر تقسیم عمل کریں بلکہ جس طرح شیر، چیتے اور بھیڑیے جنگل میں پھرتے ہیں اور سوسائٹی بنا کر نہیں رہتے یہی حال ان لوگوں کا تھا وہ بالکل الگ الگ طور پر غاروں میں زندگی بسر کرتے تھے۔حضرت آدم کی آواز پر جن لوگوں نے اس تہذیب و تمدن کو قبول کر لیا وہ انسان کہلائے اور جن لوگوں نے آپ کی باتیں ماننے سے انکار کیا قرآن کریم نے ان کا نام جن رکھا ہے کیونکہ وہ مخفی طور پر غاروں میں رہنے کو زیادہ پسند کرتے تھے اور جو لوگ حضرت آدم کی پیروی میں سطح زمین پر گاؤں کی صورت میں رہنے لگے وہ بشر اور انسان کہلانے لگے۔قرآن کریم کی کسی آیت سے یہ ثابت نہیں کہ حضرت آدم سے پہلے مخلوقات نہ تھی اور جو جنوں اور انسانوں کا ذکر کیا گیا ہے اس سے مراد دو قسم کی مخلوقات نہیں بلکہ دو قسم کے تمدنوں اور اخلاقی حالتوں کا ذکر ہے۔حضرت آدم کے زمانہ میں سیدھا سادہ قانون تھا کہ مل کر رہو، ایک دوسرے کی امداد کرو، گاؤں کی صورت میں زندگی بسر کرو، اگر تم ایسا کرو گے تو تم کو بھوک، پیاس اور لباس وغیرہ کی دقتیں نہ رہیں گی۔وہ قانون بہت ہی آسان تھا اور اس میں کسی قسم کی