انوارالعلوم (جلد 18) — Page 497
انوار العلوم جلد ۱۸ ۴۹۷ زمین کی عمر بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَىٰ رَسُولِهِ الْكَرِيمِ زمین کی عمر ( تقریر فرموده ۱۸ دسمبر ۱۹۴۶ء بعد نماز مغرب بمقام بیت اقصی ) تشہد، تعوّذ اورسورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔معلوم ہوتا ہے کہ دوست سوال کرنا ہی نہیں چاہتے۔اس سے قبل جب ڈاکٹر کچلو صاحب نے اٹامک انرجی کے متعلق تقریر کی تھی تو ان پر تو بہت سے سوالات کئے گئے تھے لیکن اب زمین کی عمر کے متعلق تقریر کی گئی ہے تو اس کو سُن کر دوست خاموش ہوگئے ہیں اور سوائے ڈاکٹر عبدالاحد صاحب کے کسی نے سوال نہیں کیا۔علم النفس کی رو سے اس کی دو وجوہات ہیں یا انسان مرعوب ہو کر بولنا شروع کر دیتا ہے اور یا بالکل خاموش ہو جاتا ہے اب کوئی سائیکالوجی کا ماہر ہی معلوم کر سکتا ہے کہ اس خاموشی کی کیا وجہ ہے۔سائنس کا نقطۂ نگاہ جو ڈاکٹر صاحب نے بیان کیا ہے وہ دلچسپ معلوم ہوتا ہے۔جہاں تک مذہب کا تعلق ہے ہمیں اس نقطہ نگاہ سے اختلاف کرنے کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی اور نہ ہی ہم اس کے صحیح ماننے پر مجبور ہیں۔مذہبی لحاظ سے یہ تحقیق ہمارے لئے پریشانی اور گھبراہٹ کا موجب نہیں بن سکتی۔ہوسکتا ہے کہ بعض لوگوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہو کہ مذہبی کتب میں تو دنیا کی عمر چھ ہزار سال بیان کی گئی ہے اور اب سائنس کروڑوں اور اربوں سال بیان کرتی ہے۔اس کے متعلق دو باتیں یاد رکھنی چاہئیں۔پہلی یہ کہ چھ ہزار سال اس مادی دنیا کی عمر نہیں جو مٹی اور مختلف دھاتوں سے بنی ہے اس کی عمر بے شک کروڑوں اربوں بلکہ اس سے زیادہ ہو ہمیں اس سے تعلق نہیں۔چھ ہزار سال جن کا مذہبی کتب میں ذکر ہے وہ آدم سے لے کر موجودہ حالت تک چھ ہزار سال بنتے ہیں اس