انوارالعلوم (جلد 18) — Page 489
انوار العلوم جلد ۱۸ ۴۸۹ دائیں کو بائیں پر فوقیت حاصل ہے بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ دائیں کو بائیں پر فوقیت حاصل ہے ( تقریر فرموده ۳۰/اکتوبر ۱۹۴۶ ء بعد نماز مغرب بمقام قادیان ) شریعت کے بعض احکام بظاہر چھوٹے چھوٹے نظر آتے ہیں لیکن اگر ان پر غور کیا جائے تو ان میں اتنی اہمیت ہوتی ہے کہ ان کا ترک کرنا قومی کیریکٹر کو خراب کر دیتا ہے مثلاً اسلام کی خصوصیات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کام میں دائیں کو بائیں پر ترجیح دی ہے یہ پانی پیتے وقت دائیں کو ترجیح دی ہے کھانا کھاتے وقت دائیں کو ترجیح دی ہے ، وضو کرتے وقت دائیں کو ترجیح دی ہے نہاتے وقت دائیں کو ترجیح دی۔غرض جتنے اہم کام ہیں ان میں آپ نے دائیں کو ترجیح دی ہے سوائے ایسے کاموں کے جن کے اندر ناپاکی کا کچھ پہلو ہو ان میں بائیں کو رکھا ہے مثلاً طہارت بائیں ہاتھ سے کرنی چاہئے۔یہ جو دائیں کو فوقیت حاصل ہے یہ صرف انسانوں ہی میں نہیں بلکہ اکثر جانوروں میں بھی یہ بات پائی جاتی ہے ان میں سے بھی اکثر دائیں ہاتھ سے ہی کام کرتے ہیں۔گو وہ انسان کی طرح تو نہیں کرتے مگر دائیں سے کام کرنے کی رغبت ان میں بھی پائی ضرور جاتی ہے۔چنانچہ دیکھ لوگھوڑا اگر کھڑا ہو اور اُس کو چلانا چاہو تو وہ پہلے اپنا دایاں پیر استعمال کرتا ہے، بعض اور جانور بھی دائیں کو استعمال کرتے ہیں، شیر جب بھی پنجہ مارتا ہے دائیں ہاتھ کا مارتا ہے۔یہ ضروری نہیں کہ جانور بھی انسان ہی کی طرح کرتے ہوں بلکہ اکثریت دایاں ہاتھ استعمال کرنے والے جانوروں کی پائی جاتی ہے۔اسی طرح عوام الناس میں بھی خواہ وہ کسی قوم سے تعلق رکھتے ہوں کثرت دائیں کے استعمال کی ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فطرت نے ہی دائیں کو اہمیت دی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کے تحت دائیں ہاتھ سے کام شروع کرنے کو ترجیح دی ہے۔